اہلِ سلوک کے لیے عمومی ہدایات
(نوآموز سالک کے آداب)
چند برسوں سے ہماری ہفتہ وار مجالس کے دوران ہم نے راہِ سلوک کے نوآموز افراد کو ایک مختصر رسالہ دیا، جس میں عملی آدابِ سلوک بیان کیے گئے ہیں جن پر سالک کو اپنے سیر و سلوک کے پورے عرصے میں کاربند رہنا چاہیے، سوائے اس کے کہ کوئی ناگزیر ضرورت پیش آ جائے۔ اس رسالے میں پچاس سے زائد نکات ہیں، جن میں سے ہم نے عام فائدے کی خاطر چالیس نکات یہاں ذکر کیے ہیں۔
۱۔
عملی توبہ سے آغاز کرے، اس طریقے کے مطابق جو مفاتیح الجنان میں ماہِ ذی القعدہ کے پہلے اتوار کے اعمال میں ذکر ہوا ہے۔ سالک کو چاہیے کہ ہر سال اس توبہ کو دہرائے، بلکہ سلوک کے ابتدائی مراحل میں وقفے وقفے سے اسے انجام دے۔
۲۔
ہمیشہ باوضو اور باطہارت رہے۔
۳۔
سالک اپنے نفس کو روزانہ چار امور کا پابند بنائے:
اوّل: مشارطہ
ہر صبح بیدار ہوتے وقت اپنے روزمرہ کے عملی پروگرام کو—جو کچھ دن بھر کرنا یا ترک کرنا ہے—یا تو تحریر میں لائے یا ذہن میں منظم کرے، پھر اپنے نفس سے عہد کرے کہ اسے بہترین طریقے سے انجام دے گا۔
دوم: مراقبہ
دن بھر ان امور پر نظر رکھے جن پر صبح کے وقت اپنے نفس سے شرط باندھی تھی، کیونکہ مسلسل مراقبہ کے بغیر مشارطہ بے فائدہ ہے۔
سوم: محاسبہ
سونے سے پہلے اپنے اعمال کا جائزہ لے کہ آیا اس نے اپنے فرائض درست طور پر ادا کیے یا نہیں۔ اگر اعمال مکمل ہوں تو اللہ کا شکر ادا کرے، اور اگر کوتاہی ہو تو نفس کا مؤاخذہ کرے۔
چہارم: معاتبہ (نفس کو سزا دینا)
اگر کمی رہ گئی ہو تو اس کی تلافی کرے؛ مثلاً قضا نماز پڑھ کر، یا اگر معاملہ حقوق الناس سے متعلق ہو (جیسے غیبت)، تو معافی طلب کر کے۔ کبھی تلافی کے لیے روزہ، صدقہ، دوبارہ توبہ، گریہ اور استغفار کے ذریعے نفس کو ادب سکھائے۔
سالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ کچھ مدت تک اس دستور پر قائم رہے تو جلد ہی گناہوں کا ترک کرنا اور واجبات کی ادائیگی اس کے لیے آسان ہو جائے گی۔ یہ اصول غیر مبتدی سالکین کے لیے بھی صادق ہے، اگرچہ مقدار و کیفیت میں فرق ہو۔
۴۔
کم بولنا، کم کھانا اور کم سونا؛ کیونکہ یہ امور دل کی نورانیت میں مؤثر ہیں۔
۵۔
سالک کا دائمی ذکر ان میں سے کوئی ایک ہو:
«لا إله إلا الله»
«الحمد لله»
«یا حی یا قیوم»
«لا إله إلا أنت سبحانک إنی کنت من الظالمین»
«استغفر الله ربی و أتوب إلیه»
سالک اپنی حالت کے مطابق کسی ایک کو اختیار کرے، جبکہ خاص ذکر استاد کی طرف سے دیا جائے۔
۶۔
خاموشی اور کم گوئی کی عادت ڈالے، یہاں تک کہ یہ اس کی طبیعت بن جائے۔
۷۔
سوتے وقت بستر قبلہ رخ اس طرح بچھائے جیسے قبر میں میت یا حالتِ احتضار میں انسان لیٹتا ہے۔ اسی طرح بیٹھنے، مطالعہ اور دیگر کاموں میں بھی حتی المقدور قبلہ رخ رہے؛ خصوصاً نماز کے تشہد کی حالت جیسی نشست اختیار کرے، کیونکہ اس میں خاص ادب اور معنویت پائی جاتی ہے۔
۸۔
سونے کا وقت چوبیس گھنٹوں کا ایک چوتھائی ہو، یعنی چھ گھنٹے۔ بہت زیادہ تھکا ہوا ہو تو ایک گھنٹہ زیادہ سو سکتا ہے۔
۹۔
صرف شدید بھوک کے وقت کھائے اور اس حال میں کھانا چھوڑ دے کہ ابھی اشتہا باقی ہو۔ معدہ بھاری نہ کرے، چٹخارہ دار چیزوں اور کھانوں کے درمیان کچھ کھانے سے پرہیز کرے۔
۱۰۔
رسولِ اکرم ﷺ اور ائمۂ طاہرینؑ سے توسل رکھے اور انہیں اپنے دل میں حاضر سمجھے، خصوصاً امامِ عصرؑ کو؛ کیونکہ وہی وہ “وجہُ اللہ” ہیں جن کی طرف اولیائے الٰہی متوجہ ہوتے ہیں۔ ان کی یاد پر مداومت، حضورِ قلب کی ملکہ پیدا کرتی ہے۔
۱۱۔
خوف اور امید کے درمیان اعتدال رکھے۔
۱۲۔
زندگی کی مشکلات میں—خواہ وہ قضا و قدر سے ہوں یا کسی اور سبب سے—زبان یا دل سے “کیوں” اور “کیسے” نہ کہے، ورنہ اجر و مقام ضائع ہو جائے گا۔ اس رویّے کی مشق سے مقامِ رضا و تسلیم حاصل ہوتا ہے۔
۱۳۔
کھانے، پینے، لباس، رہائش وغیرہ میں مشتبہ امور سے اجتناب کرے اور صرف یقینی چیزوں پر اکتفا کرے:
“جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور اسے اختیار کرو جس میں شک نہیں۔”
البتہ ضرورت، وسوسے کے خوف، یا باطنی نور سے تمیز ممکن ہونے کی صورت میں نرمی کی گنجائش ہے۔
۱۴۔
آہستہ آہستہ دوستوں کی تعداد کم کرے، اہلِ غفلت سے میل جول ترک کرے اور ان کی جگہ دینی و الٰہی بھائیوں کو اختیار کرے، تاکہ باہمی تعاون کے ذریعے راہِ خدا میں مددگار ہوں۔
۱۵۔
کوئی نیکی محض رسم، تقلید یا معاشرتی دباؤ کے تحت انجام نہ دے، بلکہ خالص نیتِ الٰہی سے کرے۔ سید بحرالعلومؒ فرماتے ہیں: عادات و رسومات کو ترک کرنا منازلِ سلوک میں سے ہے۔
۱۶۔
اہلِ غفلت سے اجتناب میں کبھی قریبی رشتہ دار، حتیٰ کہ بیوی بچے بھی شامل ہو سکتے ہیں؛ لہٰذا صرف ان کے شرعی حقوق کی حد تک تعلق رکھے۔
۱۷۔
غفلت اور برے خیالات کے خلاف مسلسل یادِ الٰہی اور فضائل کے ذریعے نفس کو پاک کرے۔ اچھے اخلاق اختیار کرنا اور برے اخلاق سے بچنا تزکیۂ نفس کی بنیاد ہے۔
۱۸۔
والدین، گھر والوں، پڑوسیوں اور تمام لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق اور اچھے برتاؤ کی حفاظت کرے۔
۱۹۔
راہِ سلوک کی سختیوں میں نہ خدا پر اعتراض کرے اور نہ اپنے استاد پر۔
۲۰۔
استاد کا حاضر و غائب دونوں حالتوں میں پورا احترام کرے، اس سے روحانی رابطہ قائم رکھے اور اس کے لیے دعا کرتا رہے، خواہ وہ دور ہو۔
۲۱۔
استاد، رفقا اور فقراء کی خدمت تمام امور کو آسان بنا دیتی ہے۔
۲۲۔
ہر مرحلے میں اپنے نفس کے ساتھ نرمی برتے اور یہ سمجھے کہ سلوک تدریجی عمل ہے، یک دم نہیں ہوتا۔
۲۳۔
رسول اللہ ﷺ کی اولاد (سادات) کا احترام کرے اور استطاعت کے مطابق ان کی حاجات پوری کرے۔
۲۴۔
سونے سے پہلے آیت الکرسی اور قرآن کی بعض سورتیں پڑھے، خصوصاً چھ مسبحات:
حدید، حشر، جمعہ، اعلیٰ، تغابن، صف۔
۲۵۔
کائنات کی آفاقی و انفسی نشانیوں میں غور و فکر کے لیے وقت مقرر کرے۔
۲۶۔
سجدۂ یونسیہ بجا لائے:
سجدے میں کم از کم ۴۰۰ مرتبہ
«لا إله إلا أنت سبحانک إنی کنت من الظالمین»
کہے اور کم از کم ایک سال اس پر مداومت کرے۔
۲۷۔
جمعہ کی رات اور جمعہ کی عصر میں سورۂ قدر سو مرتبہ پڑھے۔
۲۸۔
نمازِ فجر کے بعد دایاں ہاتھ سینے پر رکھ کر ۷۰ مرتبہ «یا فتاح» کہے اور قلبی فتوحات کی نیت کرے۔
۲۹۔
دائیں ہاتھ میں عقیق یا فیروزہ کی انگوٹھی پہنے۔
۳۰۔
مستحب اعمال خصوصاً صدقہ، نوافل اور نمازِ شب کی پابندی کرے؛ کیونکہ تہجد کے بغیر عرفانی مقامات تک پہنچنا ممکن نہیں۔
۳۱۔
ہر صبح سورۂ یٰس اور ہر رات سورۂ واقعہ پڑھے، بہتر ہے نافلۂ عشاء کی پہلی رکعت میں سورۂ واقعہ پڑھی جائے۔
۳۲۔
مندرجہ ذیل زیارات و دعاؤں پر مداومت کرے:
زیارت جامعہ کبیرہ، زیارت عاشورا، زیارت آل یاسین، دعائے ندبہ، دعائے سمات، دعائے عہد، دعائے صباح، مناجاتِ خمس عشر، دعائے حزین، دعائے مکارم الاخلاق، صحیفۂ سجادیہ کی منتخب دعائیں، وغیرہ—خشوع، حضورِ قلب اور تدبر کے ساتھ۔
۳۳۔
مستحب روزے رکھے، خصوصاً ایامِ بیض میں، جب صحت اجازت دے۔
۳۴۔
قبور، امامزادوں اور اولیاء کے مزارات کی زیارت کرے، کم از کم ہفتے میں ایک بار، اور موت میں عبرت حاصل کرے۔
۳۵۔
مؤمنین، ربانی علما اور بزرگوں کی زیارت کرے جن کی صحبت اللہ اور آخرت کی یاد دلاتی ہو۔
۳۶۔
مشاہدِ مشرفہ، عتباتِ مقدسہ، حج و عمرہ معرفت، نور، بصیرت اور عشق کے ساتھ انجام دے، نہ صرف ثواب یا حاجت کے لیے۔
۳۷۔
عرفا کے حالات اور ان کی وصایا معتبر کتب سے مطالعہ کرے، جیسے:
تذکرة المتقین، المراقبات، لب اللباب، روح مجرد، ابن فارض کا دیوان، حافظ اور مثنوی مولوی۔
۳۸۔
حدیثِ عنوان بصری کا ہفتہ وار مطالعہ کرے۔
۳۹۔
روزانہ قرآن کی تلاوت کا پابند ہو، کم از کم پچاس آیات۔
۴۰۔
اگر استاد کی موجودگی میں ہفتہ وار مجالس منعقد ہوں تو ان میں باقاعدگی سے شرکت کرے۔