حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی (مدّ ظلّه العالی) کی اطلاع رسانی ویب سائٹ

images (11)

حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی (مدّ ظلّه العالی) کی اطلاع رسانی ویب سائٹ

حضرت امام علی علیہ السلام کے نقطۂ نظر سے اولیائے الٰہی کی خصوصیات

گفتار سیزدہم: اولیائے الٰہی کی خصوصیات

اس تحریر میں ہم امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے نقطۂ نظر سے اللہ کے دوستوں کی صفات بیان کرتے ہیں۔ مناسب ہے کہ ہم خود کو پرکھیں اور دیکھیں کہ ان صفات میں سے کتنی ہمارے اندر پائی جاتی ہیں؟


۱۔ باطنی نگاہ

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

«إِنَّ أَوْلِیاءَ اللَّهِ هُمُ الَّذِینَ نَظَرُوا إِلَى بَاطِنِ الدُّنْیا إِذَا نَظَرَ النَّاسُ إِلَى ظَاهِرِهَا»
اللہ کے دوست وہ ہیں کہ جب لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے ہیں تو یہ اس کے باطن پر نگاہ رکھتے ہیں۔

ولیِّ خدا دنیا کے ظاہری مظاہر میں غرق ہونے کے بجائے اپنی حقیقت شناس آنکھ سے اس کی زینت اور چمک دمک کو الٰہی آزمائش سمجھتا ہے، جبکہ عام لوگوں کی نگاہیں انہی ظاہری چیزوں، مادّیات اور دنیاوی زیب و زینت میں الجھی رہتی ہیں اور وہ خوراک، لباس اور نفسانی خواہشات سے آگے نہیں بڑھتے۔

خداوند متعال فرماتا ہے:

«یَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَیاهِ الدُّنْیا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَهِ هُمْ غَافِلُونَ»
وہ دنیاوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں، مگر آخرت سے غافل ہیں۔

سالک کی نگاہ بھی عوام کی طرح محض ظاہر پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ اولیائے خدا کی طرح دنیا کے باطن، حقائق اور تخلیق کے اصل مقصد کو دیکھنا چاہیے۔


۲۔ آخرت کی فکر

«وَاشْتَغَلُوا بِآجِلِهَا إِذَا اشْتَغَلَ النَّاسُ بِعَاجِلِهَا»
جب لوگ دنیا کے فوری فائدوں میں مشغول ہوتے ہیں تو اولیائے خدا اس کے انجام پر توجہ دیتے ہیں۔

اولیائے الٰہی کی فکر عارضی دنیا میں الجھنے کے بجائے مستقبل اور انجام کی طرف ہوتی ہے۔ وہ دنیا کے دھوکے سے پہلے ہی خود کو محفوظ کر لیتے ہیں، جبکہ عام لوگ وقتی مسائل میں ایسے کھو جاتے ہیں کہ ذرا سی دنیا ملی تو خوش اور ذرا سی چھن گئی تو غمگین ہو جاتے ہیں۔

قرآن فرماتا ہے:

«وَمَا مِنْ دَابَّهٍ فِی الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا»
زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔

سالکِ الی اللہ کو خدا پر ایسا بھروسا ہونا چاہیے کہ وہ رزق کو صرف اسی کی طرف سے سمجھے۔


۳۔ نفسِ امّارہ کا قتل

«فَأَمَاتُوا مِنْهَا مَا خَشُوا أَنْ یمِیتَهُمْ»
انہوں نے دنیا کی ان خواہشات کو مار دیا جن سے انہیں اپنی ہلاکت کا خوف تھا۔

اولیائے خدا اپنی نفسانی خواہشات کو اس سے پہلے ختم کر دیتے ہیں کہ وہ انہیں تباہ کر دیں۔ وہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کو اپنا شعار بناتے ہیں:

«أَعْدَى عَدُوِّکَ نَفْسُکَ الَّتِی بَینَ جَنْبَیکَ»
تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا نفس ہے جو تیرے پہلوؤں کے درمیان ہے۔

نفس سے جہاد ہی حقیقی معرفت اور فضائل کے ظہور کا سبب بنتا ہے۔


۴۔ دنیا کو ترک کرنا

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

«وَتَرَکُوا مِنْهَا مَا عَلِمُوا أَنَّهُ سَیتْرُکُهُمْ»
انہوں نے دنیا کی ان چیزوں کو چھوڑ دیا جن کے چھوڑ جانے کا انہیں یقین تھا۔

اولیائے خدا جانتے ہیں کہ دنیا سے جتنی زیادہ وابستگی ہوگی، جدائی اتنی ہی مشکل ہوگی۔ اس لیے وہ پہلے ہی دل کو دنیا سے آزاد کر لیتے ہیں اور صرف اپنے محبوبِ حقیقی سے وابستہ رہتے ہیں۔


۵۔ مادّیات کو بے وقعت سمجھنا

«وَرَأَوُا اسْتِکْثَارَ غَیرِهِمْ مِنْهَا اسْتِقْلَالًا»
وہ دوسروں کی دنیاوی کثرت کو حقیر سمجھتے ہیں۔

لوگ مال، دولت، آرام اور تجملات کو عزت اور کمال سمجھتے ہیں، جبکہ اولیائے خدا ان سب کو بے حقیقت جانتے ہیں۔ قرآن خبردار کرتا ہے:

«فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیاهُ الدُّنْیا»
دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔


۶۔ عوامی سوچ کے مخالف

«أَعْدَاءُ مَا سَالَمَ النَّاسُ وَسِلْمُ مَا عَادَى النَّاسُ»
اولیائے خدا اس کے دشمن ہوتے ہیں جس سے لوگ دوستی رکھتے ہیں، اور اس سے صلح رکھتے ہیں جس سے لوگ دشمنی کرتے ہیں۔

لوگ نفسانی لذتوں اور دنیاوی زندگی سے محبت رکھتے ہیں، جبکہ اولیائے خدا ان کے مخالف اور معنوی حقائق کے دوست ہوتے ہیں۔


۷۔ قرآن سے تعلق

«بِهِمْ عُلِمَ الْکِتَابُ وَبِهِ عَلِمُوا»
قرآن ان کے ذریعے پہچانا جاتا ہے اور وہ خود قرآن کے ذریعے پہچان رکھتے ہیں۔

اولیائے خدا قرآن پر عمل کر کے اس کو زندہ رکھتے ہیں اور خود بھی قرآن کے ذریعے قائم رہتے ہیں۔


۸۔ اعلیٰ ترین خوف و رجا

«لَا یرَوْنَ مَرْجُوًّا فَوْقَ مَا یرْجُونَ وَلَا مَخُوفًا فَوْقَ مَا یخَافُونَ»
وہ اللہ سے بڑھ کر کسی سے امید نہیں رکھتے اور اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔

دنیا دار ہر چیز سے ڈرتے اور ہر ایک سے امید رکھتے ہیں، مگر اولیائے خدا کا خوف و رجا صرف اللہ سے وابستہ ہوتا ہے۔

فہرست کا خانہ