ہر درد اور پریشانی کا حل اس کے ماہر کے پاس ہے اور ہر درد کی دوا موجود ہے۔
گناہ کے علاج اور گناہ کی تلافی کا کوئی طریقہ نہیں ہے سوائے توبہ کرنے اور خدا کے حضور سے معافی مانگنے کے، اور خدا کے سامنے گناہ کا یہ اعتراف گناہ کے نقصان کی تلافی کرتا ہے۔«فَوَعِزَّتِكَ ما أَجِدُ لِذُنُوبِى سِواكَ غافِراً»؛ اے خدا، مجھے تیری عزت، اور عظمت کی قسم! میں تمہارے سوا کسی کے پاس نہیں جا سکتا۔ کیونکہ میں تیرے سوا کسی کو اپنے گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں دیکھتا۔ غافر؛ اس کا مطلب ہے معاف کرنے والا اور بخشنے والا۔ اگر ہم خدا کے اولیاء کے گھر جاتے ہیں، تو ہم انہیں صرف واسطہ قرار دیتے ہیں۔ پس معاف کرنے والی ذات خدا ہی کی ہے۔ اور اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔
«وَ لَا أَرَىٰ لِكَسْرِى غَيْرَكَ جابِراً»؛ اس ٹوٹ پھوٹ کے لیے مجھے تیرے سوا کوئی جابر نظر نہیں آتا؛ اسکا مطلب تیرے سوا کوئی نہیں جو میری ٹوٹ پھوٹ کا علاج کر سکے۔ جابراس شخص کو کہتے ہیں کہ جب کسی کے بازو یا ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے تو وہ اسے باندھ کر اس کو دوبارہ سے جوڑ دیتا ہے۔ ہڈی جوڑ چونکہ اس ٹوٹی ہوئی ہڈی پر مخصوص مرہم لگا کر باندھ دیتا ہے تاکہ وہ ٹھیک ہو کر اپنی اصلی حالت میں واپس آجائے۔
اس جملے میں امام زین العابدین علیہ السلام یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہڈی جوڑ کی طرح، تجھ سے دور رہنے اور غفلت اور گناہ میں گرفتار ہونے کے نتیجے میں، میری حالت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔میرے اندر کی اس ٹوٹی چھوٹی حالت کو تیرے علاوہ کوئی نہیں جوڑ سکتا اسے پہلی حالت میں نہیں لا سکتا اور میرے اور تیرے درمیان وہ پہلے جیسی صفا نہیں لا سکتا ہے ۔
«وَ قَدْ خَضَعْتُ بِالْإِنابَةِ إِلَيْكَ وَ عَنَوْتُ بِالإِسْتِكانَةِ لَدَيْكَ»؛ «عَنَوْتُ» یہ لفظ “عنی” سے ماخوذ ہے؛ کہ میں نے اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال دیا کہ میں آپ کے پاس آؤں اور آپ کی عاجزی اورانکساری کے ساتھ آپ سے معافی مانگوں اور اگر آپ مجھے اپنے سے دورکر دیں تو میں وہاں کیا کہوں گا؟ «فَإِنْ طَرَدْتَنِى مِنْ بابِكَ فَبِمَنْ أَلُوذُ؟»؛ یہ ذلت و رسوائی جو میرے ساتھ ہوئی، میں آپ کے گھرکے دَر پر آگیا؛ پھر اگر تو میری طرف نہ دیکھے اور اپنی رحمت کے دروازے سے مجھے رد کرے تو میں کہاں جاؤں؟ میں کس سے پناہ مانگوں؟ میں کس واسطہ بناؤں؟ صرف تم ہی ہو جو میری دیکھ بھال کرتے ہو ۔
«وَ إِنْ رَدَدْتَنِى عَنْ جَنابِكَ فَبِمَنْ أَعُوذُ؟»؛ اگر تو نے مجھے اپنی رحمت سے ٹھکرا دیا تو میں کس کے دَر پر جاؤں؟ امام سجاد علیہ السلام تائب ( توبہ کرنے والے ) کی زبان سے خدا کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں: پروردگارا! میں تیرے پاس واپس لوٹ آیا ہوں اور اپنے گناہوں سے توبہ کرکے اپنے پورے وجود کے ساتھ تیری طرف لوٹ کر آیا ہوں ۔اے میرے محبوب! اگر تو مجھے اپنی بارگاہ سے دور کر دے اور مجھے جواب نہ دے مجھے قبول نہ کرئے تو پھر میں کہاں جاوں ؟ کس سے پناہ لوں ؟
کتاب نجوی سالکان (آیت اللہ محمد صالح کمیلی مدظلہ العالی کی ایک تصنیف) گیا صفحہ 14 سے اقتباس