توبہ کرنے والوں (تائبین) کے حوالے سے گوناگوں حکایات پائی جاتی ہیں۔
تاریخ میں فضیل بن عیاض یا بہلول اور ان جیسے کئی مشہور تائبین گزرے ہیں، لیکن یہاں جو اہم ترین نکتہ بیان کرنا مقصود ہے، وہ یہ ہے کہ قبولیتِ توبہ سے مایوسی (یأس)، بذاتِ خود اصل گناہ سے کہیں زیادہ بدتر ہے؛ یعنی انسان گناہ کے ارتکاب کے بعد یہ کہے کہ: “میرے گناہ اس قدر زیادہ ہیں کہ اب روزہ، نماز اور دعائیں مجھ پر کوئی اثر نہیں کریں گی۔ جب میں نے اتنے بڑے گناہوں کا ارتکاب کر ہی لیا ہے تو اب نماز کیوں پڑھوں اور روزہ کیوں رکھوں؟!” حمید بن قحطبہ کا واقعہ متعدد مآخذ میں، بشمول شہیدِ محراب آیت اللہ دستغیب (قدّس سرّہ) کی کتاب “گناہانِ کبیرہ” میں درج ہے، جو کچھ یوں ہے:
عبیداللہ بزّاز نیشابوری، جو ایک معمر شخص تھے، بیان کرتے ہیں: “میرا حمید بن قحطبہ کے ساتھ کچھ تجارتی لین دین تھا، چنانچہ میں نے سفر کا ارادہ کیا اور اس کے پاس پہنچا۔ اسے میری آمد کی خبر ملی تو اس نے فوراً مجھے طلب کر لیا۔ میں بھی سفر کے لباس میں، نمازِ ظہر کے وقت اس کے پاس حاضر ہوا، اور یہ واقعہ ماہِ رمضان کا ہے۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایک ایسی جگہ بیٹھا ہے جہاں ایک ندی رواں تھی۔ میں نے سلام کیا اور بیٹھ گیا۔ پھر طشت اور کوزہ لایا گیا اور اس نے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر مجھے بھی ہاتھ دھونے کا حکم دیا۔ دسترخوان بچھا دیا گیا اور میں بھول گیا کہ رمضان کا مہینہ ہے اور میں روزے سے ہوں، پھر مجھے یاد آیا تو میں نے ہاتھ کھینچ لیا۔
حمید نے مجھ سے کہا: ‘تم کھاتے کیوں نہیں؟’
میں نے عرض کیا: ‘اے امیر! رمضان کا مہینہ ہے، اور نہ تو میں مریض ہوں اور نہ ہی مجھے کوئی ایسی خاص تکلیف ہے جس کی وجہ سے مجھ پر روزہ افطار کرنا لازم ہو، اور ہو سکتا ہے کہ جنابِ امیر کو کوئی عذر، بیماری یا تکلیف ہو جس کے سبب آپ افطار کر رہے ہیں۔’
اس نے کہا: ‘نہ میں مریض ہوں اور نہ ہی مجھے کوئی ایسی تکلیف ہے جو روزہ چھوڑنے کا سبب بنے، بلکہ میں مکمل طور پر صحیح و سالم ہوں۔’ یہ کہتے ہی اس کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور وہ رونے لگا۔
جب وہ کھانا کھانے سے فارغ ہوا تو میں نے پوچھا: ‘کون سی چیز آپ کے گریہ کا باعث بنی؟’
اس نے کہا: ‘جب ہارون الرشید طوس میں تھا، تو ایک رات اس نے ایک غلام کو بھیج کر مجھے طلب کیا۔ جب میں اس کے پاس حاضر ہوا، تو دیکھا کہ اس کے سامنے ایک شمع روشن ہے اور میان سے نکلی ہوئی ایک برہنہ سبز تلوار رکھی ہے۔ اس کے سامنے ایک خادم بھی کھڑا تھا۔ جب میں اس کے حضور کھڑا ہوا تو اس نے سر اٹھایا اور مجھ سے پوچھا: “تم امیر المومنین کی کس حد تک اطاعت کرتے ہو؟” میں نے کہا: “میں جان و مال سے حاضرِ خدمت ہوں۔” اس نے سر جھکا لیا اور مجھے گھر لوٹنے کی اجازت دے دی۔
مجھے گھر لوٹے ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ وہی پہلا قاصد دوبارہ میرے پاس آیا اور کہا: “امیر نے تمہیں طلب کیا ہے۔” میں نے دل ہی دل میں کہا کہ اب میرا کام تمام ہو چکا ہے۔ مجھے خوف تھا کہ مبادا وہ مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اور غالباً پچھلی بار وہ میری وجہ سے کسی شرم و حیا میں مبتلا ہو گیا تھا۔ میں اس کے حضور حاضر ہوا، اس نے پھر پوچھا: “تم امیر المومنین کی کس حد تک اطاعت کرتے ہو؟” میں نے جواب دیا: “اپنی جان، مال اور اہل و عیال (بیوی بچوں) کے ساتھ۔” وہ مسکرایا اور مجھے واپس جانے کی اجازت دے دی۔
جوں ہی میں گھر میں داخل ہوا، وہی پہلا قاصد پھر میرے پاس آیا اور کہا: “امیر نے تجھے بلایا ہے۔” میں امیر کے پاس گیا، اس نے اسی سابقہ حالت میں اپنا سر میری جانب اٹھایا اور کہا: “تم امیر المومنین کی کس حد تک اطاعت کرتے ہو؟” میں نے جواب دیا: “اپنی جان، مال، اہل و عیال اور اپنے دین کے ساتھ۔” ہارون نے ایک مسکراہٹ بکھیری اور کہا: “یہ تلوار پکڑو اور جو کچھ یہ خادم تمہیں حکم دے، اس پر عمل کرو۔”
خادم نے تلوار میرے ہاتھ میں دی اور مجھے ایک مکان میں لے گیا۔ اس نے مکان کے دروازے کا تالا کھولا۔ مکان کے بیچوں بیچ ایک کنواں تھا اور تین کمرے تھے جن کے دروازوں پر تالے پڑے تھے۔ اس نے ان میں سے ایک کمرے کا دروازہ کھولا، وہاں بیس بوڑھے اور جوان موجود تھے جو تمام کے تمام پابندِ سلاسل (زنجیروں میں جکڑے ہوئے) تھے اور ان کے بال بڑھے ہوئے تھے۔ غلام نے مجھ سے کہا: “امیر المومنین نے تجھے ان سب کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔”
حمید نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ‘اور وہ سب کے سب سادات میں سے تھے۔ غلام انہیں ایک ایک کر کے باہر نکالتا اور میں ان کی گردنیں اڑاتا رہا یہاں تک کہ بیس افراد پورے ہو گئے۔ پھر غلام نے ان کے دھڑوں اور سروں کو کنویں میں پھینک دیا۔ اس کے بعد اس نے دوسرے کمرے کا دروازہ کھولا، وہاں بھی سادات میں سے بیس افراد قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔ غلام نے کہا: “امیر المومنین نے تمہیں ان کے قتل پر بھی مامور کیا ہے۔” پھر اس نے دروازہ کھولا اور انہیں ایک ایک کر کے باہر نکالا اور میں ان کی گردنیں مارتا رہا، اور وہ ان کی لاشوں کو کنویں میں گراتا رہا، یہاں تک کہ بالآخر یہ بیس بھی پورے ہو گئے۔
اس کے بعد اس نے تیسرے کمرے کا دروازہ کھولا۔ وہاں بھی پہلے دو کمروں کی طرح سادات میں سے بیس افراد طویل زلفوں کے ساتھ طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے۔ غلام نے کہا: “امیر المومنین نے تجھے انہیں بھی قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔” وہ انہیں ایک ایک کر کے باہر لاتا، میں ان کا سر تن سے جدا کرتا اور وہ ان کے جنازوں کو کنویں میں پھینک دیتا۔
اسی منوال پر انیس (19) افراد قتل ہو گئے اور محض ایک طویل گیسوؤں والے بزرگ باقی بچ گئے تھے، جنہوں نے میری طرف رخ کر کے فرمایا: “اے پلید! خدا تجھے غارت کرے۔ قیامت کے روز جب تو ہمارے جدِ امجد حضرت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہوگا، تو ان کے ساٹھ سادات اور اولاد کو قتل کرنے کے جرم میں کیا عذر پیش کرے گا؟” یہ سنتے ہی میرے ہاتھوں پر رعشہ طاری ہو گیا اور میرا سارا بدن کانپنے لگا۔ اس غلام نے غضب ناک نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور مجھ پر جھلایا (مجھے ڈانٹا)۔ میں آگے بڑھا اور میں نے ان بزرگ کو بھی قتل کر دیا اور غلام نے ان کی لاش بھی کنویں میں پھینک دی۔
اب جب کہ مجھ سے ایسے گھناؤنے افعال سرزد ہو چکے ہیں اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اولاد میں سے ساٹھ افراد کو تہہ تیغ کر دیا ہے، تو اب یہ نماز اور روزہ میرے کس کام آئے گا؟ مجھے کوئی شک نہیں کہ میں ابد تک جہنم کی آگ میں جلتا رہوں گا۔'”
جب امام رضا علیہ السلام خراسان تشریف لائے، تو عبداللہ [عبیداللہ] نیشابوری نے اس ملعون کا واقعہ اور اس کی پروردگارِ عالم کی رحمت سے مایوسی (یأس) کا حال آپ (ع) کی خدمت میں بیان کیا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: “اس پر وائے ہو! حمید کا رحمتِ الٰہی سے مایوس ہو جانا، اس کے ان ساٹھ علویوں کو قتل کرنے کے گناہ سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔”
ملاحظہ فرمائیے کہ خدا کی رحمت کی وسعت کہاں تک ہے۔ امام علیہ السلام، جو اولین و آخرین کے علم کے وارث ہیں، وہ اس طرح فرما رہے ہیں۔ ہم چاہے کتنے ہی گناہ کیوں نہ کر لیں، ہمیں ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے؛ کیونکہ خدا کی راہ سے مایوس ہونا بذاتِ خود گناہِ کبیرہ میں شمار ہوتا ہے۔ پس خداوندِ عالم عفو و رحمت کا سرچشمہ ہے، لہٰذا ہمیں اسی کی جانب رجوع کرنا چاہیے اور اس کے ماسوا سے استغفار (کنارہ کشی و طلبِ مغفرت) کرنا چاہیے۔ [1]
حواله جات:
[1] آیت اللہ محمد صالح کمیلی، نجوائے سالکان (نامعلوم: نامعلوم، نامعلوم)، 15-18۔