امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:
«مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَ لَمْ يَخْضَعْ لِلَّهِ وَ لَمْ يَرِقَّ قَلْبُهُ وَ لَا يُنْشِئُ حَزَناً وَ وَجَلًا فِي سِرِّهِ فَقَدِ اسْتَهَانَ بِعِظَمِ شَأْنِ اللَّهِ تَعَالَى وَ خَسِرَ خُسْرَاناً مُبِيناً»؛ {1} “جس نے قرآنِ کریم کی تلاوت کی اور اللہ کے حضور اس کا دل خاضع (جھکا ہوا) نہ ہوا، اس کے قلب میں رقت پیدا نہ ہوئی اور اس نے اپنے باطن میں حزن و خوفِ الٰہی کی کیفیت محسوس نہ کی، تو تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ کی عظمتِ شان کی توہین کی اور وہ کھلے خسارے میں رہا۔”
غور فرمائیے کہ یہ کلماتِ طیبات حضرت امام صادق علیہ السلام کی جانب سے قارئین اور تلاوت کرنے والوں کے لیے ایک عظیم تنبیہ اور انتباہ ہیں۔ حضرت فرماتے ہیں: جو شخص قرآن پڑھے لیکن اس کا دل خشوع و خضوع سے لبریز نہ ہو اور تلاوت کے دوران اس کے قلب میں حزن و ملال (اپنے تقصیرات پر ندامت کا غم) پیدا نہ ہو، تو اسے جان لینا چاہیے کہ «فَقَدِ اسْتَهَانَ بِعِظَمِ شَأْنِ اللَّهِ»؛ یعنی ایسے قاری نے اپنے وجود میں اللہ کی عظمت اور اس کی شان کو گھٹا دیا ہے۔ «وَ خَسِرَ خُسْرَاناً مُبِيناً»؛ اور اس قاری نے اپنے اندر ایک آشکار زیاں اور صریح نقصان پیدا کر لیا ہے۔ بھلا اس سے بڑھ کر نقصان کیا ہوگا کہ بالفرض کوئی ہستی آپ سے کلام کر رہی ہو اور آپ کی توجہ کہیں اور ہو؛ یہ ایک طرح کی توہین اور تحقیر شمار ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کی زیارت یا ملاقات کے لیے آئے لیکن آپ اس کی طرف التفات نہ کریں، اس کی بات نہ سنیں اور آپ کا دھیان کہیں اور بٹا ہوا ہو، تو یہ آپ کے مخاطب کی تذلیل و تحقیر ہے۔
نمازی حالتِ نماز میں خدا سے ہم کلام ہوتا ہے، لیکن تلاوتِ قرآن میں معاملہ نماز کے برعکس ہے؛ یعنی یہاں اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے کلام فرماتا ہے۔ لہٰذا قاریِ قرآن پر لازم ہے کہ وہ گوشِ ہوش سے سنے کہ وہاں (عالمِ بالا) سے کیا کہا جا رہا ہے۔ چونکہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے طویل ایام اور برسوں تک قرآن کی آیات اور سورتوں کو آسمان سے اللہ کے رسول ﷺ کے قلبِ منور پر وحی کیا تھا۔ اب ہم بھی جب قرآن پڑھنا چاہیں، تو ہمیں خود کو مقامِ رسالت پر فرض کرنا چاہیے (یعنی تصور کریں کہ یہ کلام ابھی ہم پر اتر رہا ہے) اور یہ کہنا چاہیے کہ جبرائیل اللہ کی طرف سے ہمارے لیے پڑھ رہے ہیں، یہ قرآن اسی لمحے نازل ہوا ہے اور اللہ ہم سے محوِ گفتگو ہے۔ لیکن اگر ہمارا دل خاشع، خاضع اور منور نہ ہو، تو قرآن ہمارے دل میں گھر نہیں کر پاتا اور یہاں خالق کی عظمت کی توہین لازم آتی ہے؛ کیونکہ وہ ہم سے مخاطب ہے اور ہمارا دھیان کہیں اور بھٹک رہا ہے۔
قاریِ قرآن کی سہ گانہ ضروریات اور ان کے ثمرات
«فَقَارِئُ الْقُرْآنِ مُحْتَاجٌ إِلَى ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ»؛ امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: قاریِ قرآن تلاوت کے وقت تین چیزوں کا مبرم (انتہائی) محتاج ہوتا ہے، اور ان تینوں صفات اور آدابِ تلاوت کو اسے قرأت سے قبل اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ تین خصوصیات کیا ہیں؟
فرمایا: «قَلْبٍ خَاشِعٍ وَ بَدَنٍ فَارِغٍ وَ مَوْضِعٍ خَالٍ»؛
- قلبِ خاشع: قاری کے دل میں خشوع و فروتنی پیدا ہو۔
- بدنِ فارغ: قاری کا جسم غیر تلاوتی کاموں سے مکمل فارغ ہو؛ یعنی اس کی آنکھ کسی اور طرف نہ ہو، ہاتھ کسی کام میں مشغول نہ ہوں۔ جس طرح اس کے دل کو خدا کے حضور ہونا چاہیے، اسی طرح اس کے بدن کو بھی غیر اللہ کے امور سے جدا ہونا چاہیے۔
- موضعِ خالی: وہ جگہ جہاں قرآن پڑھا جائے، خلوت گاہِ تلاوت شمار ہو۔ ایسی پرہجوم جگہ پر تلاوت نہ کرے جو اس کے قلب کو پریشان کرے، بلکہ تنہائی کا مقام ہو تاکہ وہ قرآن سے اپنا معنوی حصہ حاصل کر سکے۔
«فَإِذَا خَشَعَ لِلَّهِ قَلْبُهُ فَرَّ مِنْهُ الشَّيْطَانُ الرَّجِيمُ»؛ امام صادق علیہ السلام اپنے دوسرے بیان میں ان تینوں صفات میں سے ہر ایک کا نتیجہ اور ثمرہ بیان فرماتے ہیں۔
1. خشوعِ قلب کا نتیجہ
«فَإِذَا خَشَعَ لِلَّهِ قَلْبُهُ فَرَّ مِنْهُ الشَّيْطَانُ الرَّجِيمُ»؛ تلاوت کے دوران خشوعِ قلب کا نتیجہ یہ ہے کہ پھر شیطانِ لعین کا ایسے قاری پر کوئی بس نہیں چلتا اور وہ تلاوت کی آواز سنتے ہی فرار ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ شیطان کس قاری سے بھاگتا ہے؟ اس قاری سے جو اپنی جان، دل اور تمام تر حواس کے ساتھ قرآن پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانُ الرَّجِيمِ {2}۔ قرآن میں ادبِ تلاوت کے بارے میں یوں آیا ہے کہ “اے ہمارے حبیب! جب آپ قرآن پڑھیں تو شیطانِ مردود کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کریں۔” لہٰذا جب ہم تلاوت شروع کرنا چاہیں، تو مستحب ہے کہ ابتداء میں “اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم” کہیں، یا نماز میں سورہ حمد کی قرأت سے پہلے رکعتِ اول میں “اعوذ باللہ” کہنا مستحب ہے تاکہ شیطان ہمارے قریب نہ پھٹک سکے۔
2. فراغتِ بدن کا نتیجہ
«فَإِذَا تَفَرَّغَ نَفْسُهُ مِنَ الْأَسْبَابِ تَجَرَّدَ قَلْبُهُ لِلْقِرَاءَةِ»؛ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ بدن کو تلاوت کے علاوہ ہر چیز سے فارغ ہونا چاہیے؛ آنکھ، کان، ہاتھ پاؤں اور جسم کے دیگر اعضاء تلاوت کے سوا کسی کام میں مصروف نہ ہوں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب قاریِ قرآن پریشان کن امور اور دنیاوی اسباب و اشغال سے مکمل فارغ ہو جاتا ہے، تو اس کا دل قرأت کے لیے “مجرد” (تنہا و خالص) ہو جاتا ہے، اس طرح کہ بدن کا کوئی عضو تلاوت کے سوا کسی اور چیز کی طرف متوجہ نہیں رہتا۔ «وَ لَا يَعْتَرِضُه عَارِضٌ»؛ اور جب وہ دل، جان، بدن اور ہر چیز کو مکمل طور پر قرآن میں منحصر کر دیتا ہے، تو پھر اس کے لیے کوئی بیرونی رکاوٹ یا خلل پیش نہیں آتا۔ «فَيَحْرِمَهُ بَرَكَةَ نُورِ الْقُرْآنِ وَ فَوَائِدَهُ»؛ (اور یہ جمعیتِ خاطر اس لیے ضروری ہے) تاکہ ایسا تلاوت کرنے والا نورِ قرآن اور اس کے معنوی فوائد سے محروم نہ رہ جائے۔ بالفاظِ دیگر، اگر اعضاء کسی اور طرف متوجہ ہوں گے—جس طرح کہ اگر دل کسی اور طرف ہو—تو وہ اسے ان برکات سے محروم کر دیں گے۔
3. مکانِ خلوت کا نتیجہ
تیسری خصوصیت جس کے بارے میں فرمایا گیا: «مَوضِعٍ خَالٍ»؛ یعنی جگہ پرسکون اور تنہا ہونی چاہیے، جہاں انسان لوگوں کی بھیڑ اور مخل ہونے والی چیزوں سے دور گوشہ نشینی میں بیٹھ کر قرآن پڑھے تاکہ اس کے دل میں اللہ سے انس پیدا ہو۔ «وَ إِذا اتَّخَذَ مَجْلِساً خَالِياً وَ اعْتَزَلَ عَنِ الْخَلْقِ بَعْدَ أَنْ أَتَى بِالْخَصْلَتَيْنِ الأوّلتینِ»؛ اگر مجلسِ تلاوت ایک خلوت گاہ ہو جہاں وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان قرأت کرے اور لوگوں سے عزلت اختیار کر لے؛ یعنی ان دو سابقہ خصلتوں (قلبِ خاشع اور بدنِ فارغ) کو اپنے اندر پیدا کرنے کے بعد جب وہ تنہائی میں بیٹھ کر قرآن پڑھے گا، تو «اسْتَأْنَسَ رُوحُهُ وَ سِرُّهُ بِاللَّهِ»؛ اس صورت میں قاری کا “سرّ” (باطن/روح کی گہرائی) ان آیات کے مخاطب کرنے والے خدا کے ساتھ مانوس ہو جائے گا اور اس کے دل میں عشقِ الٰہی کی تڑپ پیدا ہوگی۔ اس وقت وہ اس تلاوت سے لذت پائے گا اور اللہ کے ساتھ ہم کلامی اور قرآن کے مکاشفے کی حقیقت کو اپنے اندر محسوس کرے گا۔
«وَ وَجَدَ حَلَاوَةَ مُخَاطَبَاتِ اللَّهِ تَعَالَى عِبَادَهُ الصَّالِحِينَ وَ عَلِمَ لُطْفَهُ بِهِمْ»؛ اور وہ اس مٹھاس اور شیرینی کو محسوس کرے گا جو اللہ اپنے صالح بندوں سے کلام کرتے وقت انہیں عطا فرماتا ہے، اور یہ کیفیت اس کے لیے “وجدانی” (عینی مشاہدہ) بن جائے گی۔ وہ اس بات کا ادراک کر لے گا اور اسے یقینِ کامل حاصل ہو جائے گا کہ اللہ نے اپنے صالح بندوں پر کتنا بڑا لطف فرمایا ہے کہ انہیں ایسا قرآن عطا کیا۔ «وَ مَقَامَ اخْتِصَاصِهِ لَهُمْ بِفُنُونِ کَرَاماتِهِ وَ بَدَائعِ إشَارَاتِهِ»؛ اور یہ کہ کس طرح خداوندِ عالم نے ان صالح بندوں اور قارئینِ قرآن کو اپنی گوناگوں معنوی کرامتوں اور ان لطیف و عارفانہ اشاروں کے ذریعے—جو قرآن میں نہاں ہیں—اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لیا ہے۔ اگر بندہ یہ تینوں صفات اپنے اندر پیدا کر لے، تو وہ ان تمام حقائق اور مقامات کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔
حوالہ جات:
- جعفر بن محمد الصادق (علیہ السلام)، مصباح الشریعہ (بیروت: اعلمی، 1400ھ)، باب 14۔
- القرآن الکریم، سورہ النحل 16:98۔ “پھر جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو اللہ کی پناہ مانگیں شیطان مردود سے۔”
ماخوذ از کتاب: “عرفانِ اہل بیتی” (شرحِ مصباح الشریعہ و مفتاح الحقیقہ)، باب چہارم: قرأتِ قرآن۔ تالیف: حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی (مدظلہ العالی)