حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی (مدّ ظلّه العالی) کی اطلاع رسانی ویب سائٹ

images (11)

حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی (مدّ ظلّه العالی) کی اطلاع رسانی ویب سائٹ

شیطان، اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق

شیطان، اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق

« اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَا یلْقِی الشَّیطَانُ فِی رُوعِی مِنَ التَّمَنِّی وَ التَّظَنِّی وَ الْحَسَدِ ذِكْراً لِعَظَمَتِكَ، وَ تَفَكُّراً فِی قُدْرَتِكَ، وَ تَدْبِیراً عَلَى عَدُوِّكَ، ..{1}

یا اللہ! جو کچھ بھی شیطان میرے ذہن میں خواہشات، شکوک و شبہات اور حسد کے خیالات ڈالتا ہے اسے اپنی عظمت کی یاد، اپنی قدرت پر غور و فکر اور اپنے دشمن کے خلاف تدبیر میں بدل دے ۔۔۔

اس سوال پر بہت بحث ہوتی رہی ہے کہ آیا نفسِ امارہ شیطان سے الگ ہے یا یہ دونوں ایک ہی ہیں۔ ہم یہاں اس بحث میں نہیں پڑیں گے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ جب شیطان انسانی روح میں داخل ہوتا ہے تو وہ سرگرم ہو جاتا ہے اور مسلسل برائی اور برے کاموں کی ترغیب دیتا ہے۔

شیطان کی تخلیق ہماری تخلیق سے مختلف ہے۔ شیاطین جنات کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا تھا جبکہ ہم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ ہماری زندگی اور وجود شیطان اور جنات سے بالکل مختلف ہے۔ وہ پری ہیں اور آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں، جبکہ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ وہ زمین اور سمندر میں سفر کر سکتے ہیں، اور وہ پانی پر چل سکتے ہیں۔

ان کی اپنی تولید اور نظام زندگی ہے جو ہمارے نظام سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ جو لوگ جنات کو اپنے تابع کرنے اور انہیں نوکر کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ صرف اپنے آپ کو مزید آلودہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا اخلاق بدل جاتا ہے اور وہ گرم مزاج اور آتشی ہو جاتے ہیں۔

ممکن ہے آپ کے لیے یہ سوال پیدا ہو کہ جب شیطان اور انسان دو مختلف مخلوقات ہیں تو شیطان ہمارے جسم میں کیسے داخل ہو سکتا ہے اور ہمارے گوشت پوست میں نفوذ کر کے اپنی نسل بڑھا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ کہنا چاہیے کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ ہماری تخلیق شیطان سے مختلف ہے،

لیکن اللہ تعالیٰ نے شیطان کو تکوینی طور پر ایسا بنایا ہے کہ وہ اربوں انسانوں کو اپنے زیر اثر لا سکتا ہے۔ قرآن میں شیطان کو صراحتاً مخاطب کیا گیا ہے: وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَیهِمْ بِخَیلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِی الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ وَمَا یعِدُهُمُ الشَّیطَانُ إِلَّا غُرُورًا؛ “اور اپنی آواز کے ذریعے ان میں سے جتنوں کو ہو سکے اکساؤ، اپنا سوار اور پیادہ لشکر ان پر چڑھا دو، ان کے مال اور اولاد میں شریک ہو جاؤ اور ان سے وعدے کرو – حالانکہ شیطان کے وعدے سراسر دھوکا ہیں۔”

بلاشبہ شیطان کا نفوذ وسوسوں اور دعوت کے ذریعے ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص اس کے وسوسوں کی طرف متوجہ نہ ہو تو شیطان کو اس سے زیادہ کوئی طاقت حاصل نہیں ہے۔ ہمیں اللہ کی طرف جانا چاہیے اور کہنا چاہیے کہ اے اللہ! یہ طاقت تو نے ہی شیطان کو دی ہے کہ وہ فریب اور مکر کے ذریعے ہم پر تسلط حاصل کرے، اب ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ تو اپنی قدرت سے شیطان کے شر کو ہم سے دور کر دے!

دعای مکارم الاخلاق میں دو مقامات پر لفظ شیطان استعمال ہوا ہے۔ ایک مقام پر یہ دعا ہے: “فَإِذَا کانَ عُمُرِی مَرْتَعاً لِلشَّیطَانِ فَاقْبِضْنِی إِلَیک”؛ اے اللہ! اگر میری زندگی شیطان کی چراگاہ بن جائے اور میں شیطان کے سبزہ زار میں ہمیشہ چرتا رہوں اور رحمت خداوندی سے محروم ہو جاؤں، تو میری جان قبض کر لے! ایسی جان و عمر کہ شیطان کے تصرف میں ہو اس کی کیا قدر و قیمت ہے؟

دوسرا مقام جہاں دعای مکارم الاخلاق میں شیطان کا نام آیا ہے وہ یہ فقرہ ہے جو شیطانی وساوس سے مربوط ہے: “اَللَّهُمَّ اجْعَلْ مَا یُلْقِی الشَّیْطَانُ فِی رُوعِی …”

شیطان سارا  وقت ہمارے آس پاس موجود ہوتا ہے

خواہ ہم بیدار ہوں یا سو رہے ہوں۔ انسانی خوابوں میں شیطان کا نفوذ واضح نظر آتا ہے۔ یہی شیطانی خواب جو کسی انسان کو احتلام کی طرف لے جاتے ہیں اور اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے یہ ایک قسم کا شیطانی نفوذ ہی ہے۔

بلاشبہ خواب اور بیداری میں شیطان کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے دعائیں وارد ہوئی ہیں۔ معاویہ بن عمار نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: اگر تمہیں احتلام کا خوف ہو تو سونے سے پہلے یہ دعا پڑھا کرو: “اللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الِاحْتِلَامِ وَ مِنْ سُوءِ الْأَحْلَامِ وَ مِنْ أَنْ یَتَلَاعَبَ بِیَ الشَّیْطَانُ فِی الْیَقَظَةِ وَ الْمَنَام‏؛ اے اللہ! میں احتلام سے، برے خوابوں سے اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان مجھے بیداری یا خواب میں اپنا کھلونا بنا لے۔”

اسی طرح یہ بھی تاکید کی گئی ہے کہ کھانا کھاتے وقت “بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِیمِ” کہو تاکہ شیطان تمہارے کھانے میں شریک نہ ہو۔ یہاں تک کہ ہدایت کی گئی ہے کہ عمل جماع کے وقت بھی اللہ کا ذکر کرو تاکہ شیطان تمہاری اولاد میں شریک نہ ہو۔

شیطان کی سرکشی یعنی سجدہ سے انکار اور انسانوں سے اس کی کھلی دشمنی کا قصہ قرآن کے مختلف مقامات میں بالتفصیل مذکور ہے، اس میں سورہ حجر بھی شامل ہے۔ اسی وجہ سے شیطان کی انسانوں کے ساتھ بنیادی دشمنی اور عداوت میں کوئی شک نہیں ہے۔

لیکن ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اگر ہم محتاط رہیں تو قرآن کی صریح تعبیر کے مطابق شیطان ایک حقیر اور کمزور دشمن ہے: إِنَّ كَیدَ الشَّیطانِ كانَ ضَعیفاً؛ شیطان کی چال ہمیشہ کمزور ہوتی ہے۔ شیطان خواہ جتنی بھی چال چلے، اگر ہم اللہ کے راستے پر ہیں اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو شیطان کچھ نہیں کر سکتا، کیونکہ اللہ شیطان سے بالاتر ہے اور شیطان کا خالق ہے۔ ہم اللہ کی مدد اور روحانیت، عبادات اور ریاضتوں کے ذریعے شیطان اور اس کے وسوسوں پر غالب آ سکتے ہیں۔

جو لوگ استاد، عبادت، مراقبہ، ریاضت اور دیگر امور کی  مشقت برداشت کرتے ہیں، ان کا اخلاص مضبوط ہوتا ہے اور وہ مُخلَص بن جاتے ہیں۔ شیطان کا زور مُخلَصین پر نہیں چلتا۔ شیطان صرف کافروں، منافقوں، فاسقوں اور بالآخر ان مومنین کو دھوکا دے سکتا ہے جو اخلاص کے درجے تک نہیں پہنچے ہیں۔

دو قسم کی وحی یا الہام ہوتے ہیں، اس کی وجہ سے مکاشفات بھی دو قسم کے ہوتے ہیں؛ رحمانی مکاشفات اور شیطانی مکاشفات۔ ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے کہ کسی وقت شیطانی مکاشفات کو رحمانی مکاشفات کے ساتھ خلط نہ کر دیں۔ استاد کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ سالک کے مکاشفات کا جائزہ لینے کے بعد وہ آسانی سے رحمانی مکاشفات کو شیطانی مکاشفات سے الگ کر سکتا ہے۔

حوالہ جات:

  • صحیفہ سجادیہ، دعا مکارم الاخلاق
  • یقیناً، بعض صورتوں میں، شیطان نیکی کا حکم دیتا ہے اور روح کی ہوا برائی کا حکم دیتی ہے۔ یہ کہہ کر شیطان جانتا ہے کہ اس شہوت انگیز نظر کا ارتکاب کرنا ایک ہی ہے اور مؤثر نفی ہونے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے وہ فلاں فلاں صورت حال میں فلاں برائی کا حکم نہیں دیتا، لیکن اس کے پاس پھر بھی نظر بد کا حکم دینے کا نفس موجود ہے۔
  •  اسراء (17)، آیت 64۔
  •  ابن بابویہ، من لا یھدرہ الفقیہ، ج1، ص٤٧١
  • همان، جلد 3، صفحہ 355
  • عبدالرحمٰن بن کثیر کہتے ہیں: میں امام صادق علیہ السلام کی بارگاہ میں بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے منی کے بند ہونے کے دوران شیطان کی شرکت کے بارے میں بات کی اور اس کی مشکل اور مشکل کا ذکر کیا۔ میں نے کہا: میری جان فدائیت، اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟ حضرت نے فرمایا: جب بھی ملانا چاہو تو کہو: خدا کے نام سے جو بڑا مہربان، رحم کرنے والا ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔
  • یا اللہ! اگر اس رات آپ نے شیطان کے لیے اس حصہ، حصہ اور فائدے میں میری نسل سے ایک جانشین مقرر کیا ہے اور اسے ایمان اور اخلاص کے ساتھ اور شیطان اور اس کی غلاظت سے پاک کر کے مقرر کیا ہے تو آپ کی بہت تعریف ہو۔ بروجردی، شیعہ فقہ کے ماخذ، “جامع ترجمہ احادیث الشیعہ”، جلد 25، صفحہ 419۔
  • نیسا (4)، 76۔

کتاب اہل اخلاق اہل بیتی  سے ماخوذ ہے۔

 شرح «دعای مکارم الاخلاق »فراز 13:تبدیل سیئات به حسنات

تصنیف حضرت آیت الله کمیلی خراسانی

فہرست کا خانہ