حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی (مدّ ظلّه العالی) کی اطلاع رسانی ویب سائٹ

images (11)

حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی (مدّ ظلّه العالی) کی اطلاع رسانی ویب سائٹ

عرفان کی سماجی حالات پر توجّہ

عرفان کی سماجی حالات پر توجّہ

یہاں ایک انتہائی لطیف اور باریک نکتہ ہے جس کی جانب اشارہ کرنا ناگزیر ہے۔ غور فرمائیے! امام جعفر صادق علیہ السلام بعض اوقات انتہائی آراستہ، پُر تکلّف اور قیمتی جُبّہ (عبا) زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ لوگوں نے آپ کی خدمت میں اس پر اعتراض کیا۔ وہ آئے اور عرض کرنے لگے: “آپ اس قسم کا نفیس لباس پہنتے ہیں، جبکہ آپ کے جدِ بزرگوار حضرت علی علیہ السلام کیسا (سادہ) لباس پہنا کرتے تھے؟” آقا (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا: “جس زمانے میں میرے جدِ امجد حیات تھے، اس کے تقاضے اور احکام مختلف تھے، اور یہ زمانہ جس میں میں زندگی بسر کر رہا ہوں، اس کا حکم جداگانہ ہے۔”[1]

اب معاملہ یہ نہیں ہے کہ ہم عمدہ اور نفیس لباس پہننا بالکل ہی ترک کر دیں۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ ان ظاہری پُر تکلّف اور آراستہ لباسوں کی جو اس قدر مذمت کی گئی ہے، وہ ان افراد کے حق میں ہے جنہوں نے ابھی تک خودسازی (تزکیۂ نفس) نہیں کیا۔ وگرنہ اگر کسی شخص نے واقعی روحانی اور معنوی اعتبار سے اپنا تزکیہ کر لیا ہو، تو وہ بوقتِ ضرورت اپنا لباس بھی راہِ خدا میں قربان کر دیتا ہے۔ کیا ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام ایسے نہیں تھے جو اپنا لباس تک عطا کر دیا کرتے تھے؟ قرآنِ مجید کا فرمان ہے: ﴿وَ يُؤْثِرُونَ عَلى‏ أَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كانَ بِهِمْ خَصاصَةٌ﴾[2] ‘ایثار’ (ترجیحِ غیر) کا حقیقی عرفانی مفہوم یہی ہے کہ آپ وہ طعام جو خاص آپ کے اپنے لیے ہے، اسے اللہ کی راہ میں دے دیں۔ وہ لباس جو خاص آپ کی ذات کے لیے ہے، اسے راہِ خدا میں صدقہ کر دیں؛ درحقیقت یہی ایثار ہے۔

چنانچہ اب ایسا شخص جو صاحبِ ایثار ہے، جس نے خودسازی (تزکیۂ باطن) کی منازل طے کر لی ہیں، اور جو اہلِ معرفت و ایمان کے درجے پر فائز ہے، وہ ‘عُجب’ (خود پسندی) اور ‘ریا’ (دکھاوے) کی آلائشوں سے کلی طور پر باہر آ چکا ہے۔ ایسے صاحبِ کمال شخص کو یہ طعنہ نہیں دیا جا سکتا کہ “تم فلاں قسم کا عمدہ لباس مت پہنو کیونکہ یہ تکبر و خود پسندی کا باعث بنے گا۔” اس کا حال تو یہ پکار رہا ہوتا ہے کہ “میں نورِ خدا میں غرق و مستغرق ہوں۔” ایک عارفِ کامل کو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم نفیس لباس زیب تن نہ کرو؛ اسی لیے ائمہ علیہم السلام بھی عمدہ لباس پہنا کرتے تھے۔ ائمہ علیہم السلام کے بعض اصحاب کا بھی یہی عالم تھا۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام دورِ معاویہ میں نہایت قیمتی جُبّہ زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ آپ (ع) پر بھی اعتراض کیا گیا کہ آپ کے جدِ بزرگوار حضرت علی علیہ السلام تو اس طرح کا لباس نہیں پہنتے تھے۔ آپ (ع) نے جواب دیا: “ہمارے دور اور ان کے دور کے حالات میں واضح فرق ہے۔”[3]

درحقیقت، مؤمنین کو چاہیے کہ وہ دنیاوی نعمتوں سے بھرپور اور احسن انداز میں مستفید ہوں؛ کیونکہ ایک مؤمن اور وہ افراد جو اس کی اہلیت رکھتے ہیں، ان کا نعمتوں سے صحیح طور پر مستفید ہونے کا حساب و کتاب (عام لوگوں کی نسبت) بالکل جداگانہ اور منفرد ہے۔

ماخوذ از: یہ اقتباس کتاب عرفانِ اہلِ بیتی: شرح «مصباح الشريعة و مفتاح الحقيقة» کے بابِ ہفتم: لباس، سے ماخوذ ہے۔ تصنیف: حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی

حوالہ جات:

  1. سفیان ثوری روایت کرتے ہیں: “میں حضرت جعفر بن محمد (امام صادق) علیہما السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ (ع) نے سیاہی مائل خز (ریشم یا عمدہ اون) کا ایک جُبّہ اور خز ہی کی ایک چادر اوڑھ رکھی تھی۔ میں انتہائی حیرت سے آپ (ع) کی طرف دیکھنے لگا۔ اس پر حضرت (ع) نے مجھ سے فرمایا: ‘اے ثوری! کیا بات ہے، تم مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو؟ شاید جو تم دیکھ رہے ہو اس پر تمہیں حیرت ہو رہی ہے؟’ میں نے عرض کی: ‘اے فرزندِ رسولِ خدا! یہ آپ کا اور آپ کے آباؤ اجداد کا لباس تو نہیں ہے۔’ آپ (ع) نے ارشاد فرمایا: ‘اے ثوری! وہ زمانہ فقر و احتیاج کا زمانہ تھا، اور وہ اپنے دور کی احتیاج کے مطابق عمل کیا کرتے تھے، مگر یہ ایسا زمانہ ہے جس نے ہر شے کے دھانے کھول دیے ہیں (یعنی فراوانی کا دور ہے)۔’ پھر آپ (ع) نے اپنے جُبّے کی آستین اوپر چڑھائی، تو اس کے نیچے سفید صوف (کھردری اون) کا ایک موٹا جُبّہ تھا، جس کا دامن اوپر والے جُبّے کے دامن سے چھوٹا تھا اور اس کی آستینیں بھی اس کی آستینوں سے چھوٹی تھیں۔ پھر آپ (ع) نے فرمایا: ‘اے ثوری! ہم نے یہ (باطنی لباس) اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پہنا ہے اور یہ (ظاہری لباس) تم لوگوں کے لیے پہنا ہے۔ پس جو کچھ اللہ کے لیے تھا، اسے ہم نے چھپا لیا، اور جو کچھ تمہارے لیے تھا، اسے ہم نے ظاہر کر دیا۔'” دیکھیں: علی بن عیسیٰ اربلی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ، ج ۲ (تبریز: مکتبۃ بنی ہاشمی، ۱۳۸۱ ہجری)، ۶۹۳۔
  2. “اور وہ (اپنے بھائیوں کو) اپنی جانوں پر مقدم رکھتے ہیں، خواہ وہ خود کیسی ہی سخت حاجت مندی میں ہوں۔” القرآن الکریم، سورۃ الحشر 59:9۔
  3. محمد باقر مجلسی، بحار الأنوار، ج ۴۳ (بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۹۸۳)، ۳۴۶۔

فہرست کا خانہ