سالکِ راہِ طریقت کے لیے چند لازمی صفاتِ حمیدہ
«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ سَدِّدْنِی لِأَنْ أُعَارِضَ مَنْ غَشَّنِی بِالنُّصْحِ، وَ أَجْزِی مَنْ هَجَرَنِی بِالْبِرِّ، وَ أُثِیبَ مَنْ حَرَمَنِی بِالْبَذْلِ، وَ أُكَافِی مَنْ قَطَعَنِی بِالصِّلَةِ، وَ أُخَالِفَ مَنِ اغْتَابَنِی إِلَى حُسْنِ الذِّكْرِ، وَ أَنْ أَشْكُرَ الْحَسَنَةَ، وَ أُغْضِی عَنِ السَّیئَةِ»[1]
“اے پروردگار! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی آل پر درود نازل فرما، اور مجھے توفیق (و استقامت) عطا کر کہ جو مجھ سے دغا کرے، میں خیر خواہی سے اس کا مقابلہ کروں؛ اور جو مجھ سے کنارہ کشی اختیار کرے، میں اس کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤں؛ جو مجھے محروم کرے، میں اسے اپنی عطا و بخشش سے نوازوں؛ جو مجھ سے قطع تعلق کرے، میں اس سے ناطہ جوڑوں؛ جو میری پیٹھ پیچھے برائی (غیبت) کرے، میں اس کا ذکرِ خیر کروں؛ حسنِ سلوک (نیکی) پر شکر بجا لاؤں اور برائی سے چشم پوشی کروں۔”
دعائے مکارم الاخلاق میں دو طرح کی صفات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے: ۱۔ منفی صفات (رذائل)، جنہیں ہمیں اپنے وجود سے دور کرنا چاہیے۔ ۲۔ مثبت صفات (فضائل)، جن کا حصول ہمارے لیے لازم ہے۔ اس دعا کا نواں اور دسواں فقرہ دوسری قسم کی صفات، یعنی مثبت صفات پر مشتمل ہے۔ نواں فقرہ کلی طور پر صفاتِ حمیدہ (مثبت خصلتوں) کے بیان میں ہے اور ہم سب پر لازم ہے کہ پوری جدوجہد اور ریاضت کے ساتھ ان روحانی صفات کو اپنے باطن میں اجاگر کریں۔
۱۔ برائی کے بدلے بھلائی
«وَ سَدِّدْنِی لِأَنْ أُعَارِضَ مَنْ غَشَّنِی بِالنُّصْحِ؛ اے میرے معبود! راہِ صواب پر میری تائید فرما تاکہ جو شخص مجھے فریب دے اور مجھ سے خیانت کرے، میں نصیحت اور خیر خواہی کے ذریعے اس کا مقابلہ کروں۔» پہلی صفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سالک کو ان لوگوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہیے جو اس کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتے ہیں۔ کیا ہم برائی کا جواب برائی سے دیں؟ ہمارے آئمہ ہدیٰ (علیہم السلام) کا طریقۂ کار کیا رہا ہے؟ قرآن اور دینِ اسلام ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ قرآنِ کریم پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ یاددہانی کراتا ہے کہ برائی کا جواب نیکی سے دیا جائے: ﴿ادْفَعْ بِالَّتِی هِی أَحْسَنُ السَّیّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا یصِفُونَ﴾؛ “(اے رسول!) برائی کو اس طریقے سے دفع کیجیے جو بہترین ہو (یعنی برائی کا جواب نیکی سے دیجیے)! جو کچھ یہ لوگ بیان کرتے ہیں، ہم اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔”[2] یہی وہ اخلاقی اور روحانی لائحہ عمل ہے جو آئمہ اطہار (علیہم السلام) کے افعال و کردار کا عملی نمونہ رہا ہے، اور تاریخ کے اوراق میں اس کی بے شمار داستانیں محفوظ ہیں۔
امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کے احوال و سیرت میں منقول ہے کہ: ایک روز شام کا رہنے والا ایک شخص، جو بنی امیہ کے زہریلے پروپیگنڈے سے شدید متاثر تھا، مدینہ منورہ کے کوچوں میں آپؑ کے روبرو ہوا اور بغیر سوچے سمجھے آپؑ کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے لگا۔ آپؑ مکمل خاموش رہے تاکہ وہ اپنے دل کی بھڑاس اور عقدے اچھی طرح نکال لے۔ پھر آپؑ نے کمالِ حلم سے فرمایا: “میرا خیال ہے کہ تم اس شہر میں مسافر ہو اور تم پر معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے؛ اگر تمہارے پاس رہنے کو گھر نہیں تو ہم تمہیں ٹھکانہ فراہم کرتے ہیں، اگر تم مقروض ہو تو میں تمہارا قرض اتارنے کا ذمہ لیتا ہوں، اور اگر تم بھوکے ہو تو میں تمہیں شکم سیر کرتا ہوں۔” وہ شامی شخص جسے امام مجتبیٰ (علیہ السلام) سے اس قدر حلیمانہ اور رحمانی ردِ عمل کی قطعی توقع نہ تھی، آپؑ کی ذاتِ والا صفات کا اس قدر گرویدہ (مجذوب) ہوا کہ بے ساختہ پکار اٹھا: “اے فرزندِ رسول! اگر اس ملاقات سے قبل کوئی مجھ سے پوچھتا کہ اس آسمان کے سایے تلے بدترین اشخاص کون ہیں، تو میں آپ اور آپ کے والد کا نام لیتا، مگر آج کے بعد میں آپ دونوں کو دنیا کے بہترین اور نیک ترین افراد کے طور پر متعارف کراؤں گا۔”[3]
درحقیقت، یہ ایک مسلّمہ روحانی نکتہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور اخلاقِ کریمانہ انہیں باطنی طور پر منقلب (Transform) کر دیتا ہے، جس کی جانب قرآنِ مجید نے بھی یوں توجہ دلائی ہے: ﴿وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی هِی أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَینَكَ وَبَینَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِی حَمِیمٌ﴾؛ “اور نیکی اور بدی ہرگز برابر نہیں ہو سکتیں؛ برائی کو اس (طریقے) سے دفع کیجیے جو بہترین ہو، تو اچانک آپ دیکھیں گے کہ جس کے اور آپ کے درمیان عداوت تھی، گویا وہ ایک گرم جوش اور سرگرم دوست بن گیا ہے!”[4] اس لطیف اخلاقی اور عرفانی نکتے کو میاں بیوی، دوست احباب اور معاشرے کے ہر رشتے کے باہمی برتاؤ کا عملی نمونہ ہونا چاہیے۔ اگر دانستہ یا نادانستہ طور پر ایک فریق سے کوئی ناپسندیدہ رویہ سرزد ہو جائے، تو دوسرا فریق انتقام (مقابلہ بہ مثل) پر نہ اترے، بلکہ اپنے حسنِ اخلاق کی بدولت اس عناد اور دشمنی کو صفا، محبت اور قلبی قربت (صمیمیت) میں بدل دے۔ امام سجاد (علیہ السلام) اس فقرے میں خداوندِ متعال کی بارگاہ میں التجا کرتے ہیں: خدایا! مجھے ایسی توفیق، روحانی قوت اور ہدایت عطا فرما کہ اگر کوئی شخص میرے خلاف محاذ آرائی کرے، مجھے دھوکہ دے اور فریب کاری سے کام لے، تو میں اس کی نصیحت اور روحانی دستگیری کروں، نہ یہ کہ لاپرواہ ہو کر کہہ دوں کہ اب میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔
۲۔ قطع تعلقی کے بدلے حسنِ سلوک
امام سجاد (علیہ السلام) فرماتے ہیں: «وَ أَجْزِیَ مَنْ هَجَرَنِی بِالْبِرِّ؛ خدایا! مجھے یہ توفیق بخش کہ جس شخص نے مجھ سے کنارہ کشی اختیار کی اور مجھے ترک کر دیا ہے، میں اسے نیکی اور حسنِ سلوک کے ساتھ صلہ دوں۔» اگر کوئی شخص مجھ پر نامہربانی کرے اور مجھ سے اپنا تعلق توڑ لے، تو میں ازخود اس کے پاس جاؤں اور اس کے ساتھ احسان و نیکی سے پیش آؤں تاکہ ہماری دوستی اور الفت کا رشتہ دوبارہ اپنی جگہ پر بحال ہو جائے۔
۳۔ محرومیت کے بدلے جود و سخا (بخشش)
«وَ أُثِیبَ مَنْ حَرَمَنِی بِالْبَذْلِ؛ خدایا! مجھے اس امر پر موفق فرما کہ جس نے مجھے محروم کیا ہے، میں اسے اپنے جود و عطا (بذل و بخشش) سے نوازوں۔» اگر کسی شخص نے مجھے ان حقوق سے محروم کر دیا جو مجھے حاصل تھے، تو اے پروردگار! مجھ پر یہ کرم فرما کہ میں اس کے جواب میں داد و دہش کروں؛ یعنی میں اس پر اپنا مال قربان کروں اور اسے ہدیہ و تحفہ پیش کروں۔
۴۔ قطعِ رحم کے بدلے صلہ رحمی
«وَ أُکَافِیَ مَنْ قَطَعَنِی بِالصِّلَة؛ خدایا! مجھے اس بات کی توفیق عطا کر کہ جس شخص نے مجھ سے قطع تعلق کر کے قطع رحمی کی ہے، میں صلہ رحمی اور ناطہ جوڑنے کے ذریعے اس کے عمل کا مکافات (بدلہ) کروں۔» اگر کوئی شخص مجھ سے قطع تعلق کر لے اور کہہ دے کہ میں اب کبھی تمہارے گھر نہیں آؤں گا، تو اے خدا! مجھ پر اپنا فضل فرما کہ میں اس کا دامنِ التفات نہ چھوڑوں۔ میں خود اس کی زیارت کو جاؤں اور صلہ رحمی کا فریضہ نبھاؤں۔
۵۔ غیبت کے بدلے ذکرِ خیر
«وَأُخَالِفَ مَنِ اغْتَابَنِی إِلَى حُسْنِ الذِّکْرِ؛ پروردگارا! مجھے توفیق دے کہ جس نے میری غیبت کی ہے، میں اسے نیکی کے ساتھ یاد کروں۔» اگر کوئی آکر مجھ سے یہ کہے: “فلاں شخص نے تمہاری غیبت کی، تمہاری بدگوئی کی اور تمہاری عزت اچھالی ہے”، تو کیا اب میں بھی اس کی طرح جواباً اس کی آبرو ریزی پر اتر آؤں؟ حضرت (امام سجادؑ) ارشاد فرماتے ہیں: اس کی غیبت کرنے اور بدگوئی کے بجائے، اس کی خوبیوں کو بیان کرو (ذکرِ خیر کرو) اور اس بات کی ہرگز اجازت نہ دو کہ اس بدگوئی اور غیبت کا یہ سلسلہ آگے بڑھے۔
۶۔ نعمت کے مقابلے میں شکر گزاری
«وَ أَنْ أَشْکُرَ الْحَسَنَة؛ خدایا! مجھے اس امر کی توفیق بخش کہ میں نیکی پر شکر بجا لاؤں۔» یہاں ‘حَسنہ’ سے مراد احسان اور نیکی ہے۔ جب کوئی شخص آپ کے ساتھ بھلائی کرے، تو آپ پر لازم ہے کہ آپ اس کا شکریہ ادا کریں اور دل سے اس کے سپاس گزار ہوں۔
۷۔ خطاؤں سے چشم پوشی
«وَ أُغْضِیَ عَنِ السَّیِّئَة؛ بارِ الٰہا! مجھے موفق فرما کہ میں برائی سے چشم پوشی کروں۔» اگر کوئی شخص آپ کے ساتھ گستاخی یا بے ادبی سے پیش آئے جو آپ کی قلبی اذیت کا باعث بنے، تو آپ اس کے خلاف کوئی تند موقف اختیار نہ کریں بلکہ وسعتِ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی خطا سے درگزر (چشم پوشی) کریں۔
حوالہ جات:
[1] علی بن حسین (امام سجادؑ)، صحیفہ سجادیہ، دعائے مکارم الاخلاق۔ [2] القرآن الکریم، ۲۳: ۹۶۔ [3] علی بن عیسیٰ الاربلی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ، جلد ۱ (بیروت: دار الاضواء)، ۵۶۱۔ [4] القرآن الکریم، ۴۱: ۳۴۔ (وضاحت: اصل فارسی متن میں سہواً سورہ فصلت کی آیت کا حوالہ ۲۴ درج کیا گیا ہے، جبکہ درستیِ متن کے پیشِ نظر یہاں درست آیت ۳۴ درج کی گئی ہے)۔
ماخوذ از کتاب: اخلاقِ اہلِ بیتی (شرح دعائے مکارم الاخلاق)، نواں فقرہ: نامناسب رویوں کے جواب میں نیکوکارانہ طرزِ عمل۔ تصنیف: حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی