توکّل اور اس اثرات
امام صادق علیه السلام «وَ الْمُتَوَكِّلُ عَلَى اللَّهِ يُصْبِحُ وَ يُمْسِي فِي كَنَفِهِ»{1}
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا توکل کرنے والا شخص اپنے اپ کو اللہ کے حوالے کر دیتا ہے اور اپنے کاموں میں اللہ تعالی کو اپنا وکیل قرار دیتا ہے۔
جسے اللہ پر ایمان اور یقین ہوتا ہے وہ خدا پر توکل رکھتا ہے اور کہتا ہے میں اپنا رزق و روزی خدا سے لیتا ہوں لوگوں کی جیبوں اور ہاتھوں پر نگاہ نہیں رکھتا میں کام کاج کے لیے اپنے ہاتھوں کو نہیں دیکھتا میں ساری چیزوں کو اللہ کے ہاتھ میں دیکھتا ہوں ایسا شخص پرسکون ہوتا ہے اسائش میں ہوتا ہے دن اور رات پرسکون ہوتا ہے اللہ کے زیر نظر کام کرتا ہے وہ اللہ کی نظروں میں ہوتا ہے کیونکہ ہمیشہ اللہ کی یاد میں رہتا ہے «وَ هُوَ مِنْهُ فِي عَافِيَةٍ»؛
ایسا شخص ہمیشہ سلامتی اور عافیت میں رہتا ہے اب ایسے شخص کو مذکورہ سات افتیں کوئی نقصان نہیں پہنچاتی.
«وَ قَدْ عَجَّلَ اللَّهُ لَهُ كِفَايَتَهُ وَ هَيَّأَ لَهُ مِنَ الدَّرَجَاتِ مَا اللَّهُ تَعَالَى بِهِ عَلِيمٌ»؛ اگر انسان کا ایمان اور یقین اتنا ہی پختہ ہو جاتا ہے اور اپنے قادر اور طاقتور خدا پر ایسا توکل کرتا ہے تو جب خدا اس کے اس پختہ ایمان یقین اور توکل کو دیکھتا ہے تو خدا بھی اس کی طرف اتا ہے اور اس کے امور میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور اس کے اہم کام پورے کرتا ہے«وَ هَيَّأَ لَهُ مِنَ الدَّرَجَاتِ»؛اس کے درجات بلند کرتا ہے اور خدا کو پتہ ہے کہ اس کے درجہ معنوی لحاظ سے کس حد تک بلند کر سکتا ہے.
لالچ کا اور اللہ تعالی کے غضب کا باہمی تعلق
«وَ الْحِرْصُ مَاءٌ يَجْرِي فِي مَنَافِذِ غَضَبِ اللَّهِ تَعَالَى»؛ فرماتے ہیں : یہ بری صفت اور رذیلت اور دنیوی لالچ ایک ایسا پانی ہے جس کا بہاؤ غضب ، ناراضگی اور الہی جلال میں ہے یوں کہ جسے خود آدمی ، اس کا خاندان ،اس کا بدن اس کی آسائش اورسب کچھ کو بہہ جاتا ہے ۔اور دوسری طرف چونکہ یہ اللہ کی تقدیر اور رزق پر ایمان نہیں رکھتا لہذا غضب الہی کا شکار ہوتا ہے «وَ مَا لَمْ يُحْرَمِ الْعَبْدُ الْيَقِينَ لَا يَكُونُ حَرِيصاً»؛اگر اللہ کے بندے کو یقین ہو جائے کہ رزق روزی صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اگر اس کا قلبی یقین اس کے اندر ثابت رہے تو ایسا شخص کبھی بھی لالچ نہیں کرے گا اور لالچی نہیں ہوگا لالچی وہ بندہ ہوتا ہے جس کا یقین کمزور ہوتا ہے وگرنہ ناممکن ہے ایک بندہ لالچی بھی ہو اور اسے یہ بھی یقین ہو کہ رزق دینے والا صرف اور صرف خدا ہے۔ اور خدا خیر الرازقین ہے۔خداپر ایسے عقیدہ رکھے جیسے امیر المومنین نے اپنی مناجات میں بیان کیا ہے : «مَوْلَايَ يَا مَوْلَايَ أَنْتَ الرَّازِقُ وَ أَنَا الْمَرْزُوقُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْمَرْزُوقَ إِلَّا الرَّازِق»{2} خدایا تو رزّاق ہے ، میں بھلا کون ہوں کیا کر سکتا ہوں؟ لوگ کیا کر سکتے ہیں ؟ خدایا تو رزق دینے والا ہے میں تیرا مرزوق ہوں میرا تیر ارزو کھانے والا ہوں کیا روزی کھانے والے کو روزی دینے والے کے علاوہکوئج چارہ ہے ؟ ہمارا چارہ یہ ہے کہ ہم اپنے حقیقی رزق دینے والے کی طرف جائیں نہ کسی ایسی روزی کی تلاش میں جس کی کوئی قیمت نہیں ہے رزق حلال اور پاک چاہے کم ہی کیوں نہ ہو وہی دیتا ہے اور بس
یاد رہے جیسا کہ روایت میں ہے کہ جو رزق حلال پر قناعت نہیں کرتا اسے حرام رزق پہنچتا ہے .{3}
«وَ الْيَقِينُ أَرْضُ الْإِسْلَامِ وَ سَمَاءُ الْإِيمَان»؛
امام علیہ السلام کا اخری جملہ یہ ہے کہ کا بندہ جو یقین توکل میں اور خدا پر اعتماد میں خدا پر رکھتا ہے وہ واقعی اور حقیقی اسلام کے لیے ایک زمین فراہم کرتا ہے «وَ سَمَاءُ الْإِيمَان»؛اسی طرح یہ یقین ایمان الہی کا وہ اسمان ہے کہ جس کے نیچے خدا پر توکل رکھنے والا بندہ زندگی بسر کرتا ہے۔
خدایا توکل جیسی پسندیدہ صفت ہمیں عطا فرما لالچ طمع جیسی نہ پسندیدہ صفت کو ہمارے دلوں سے نکال دے اور اس کی جگہ ہمارے دلوں میں اپنی اور اپنے اولیاء کی محبت ڈال دے اور اسے ہمارے دلوں میں ہمیشہ ثابت رکھ۔ امین
حوالہ جات:
- مصباح الشریعه
- ابن مشهدی، المزار الكبير، ص
- «دخل علی علیه السلام المسجد و قال لرجل أمسك على بغلتي فخلع لجامها و ذهب به فخرج علي علیه السلام بعد ما قضى صلاته و بيده درهمان ليدفعهما إليه مكافأة له فوجد البغلة عطلا فدفع إلى أحد غلمانه الدرهمين ليشتري بهما لجاما فصادف الغلام اللجام المسروق في السوق قد باعه الرجل بدرهمين فأخذه بالدرهمين و عاد إلى مولاه فقال علي علیه السلام : إن العبد ليحرم نفسه الرزق الحلال بترك الصبر و لا يزاد على ما قدر له»؛
ایک دن امیر المومنین علیہ السلام مسجد میں داخل ہوئے اور وہاں کھڑے شخص سے فرمایا کہ میرے گھوڑے کا خیال رکھو تاکہ میں نماز پڑھ سکوں۔ جب امام مسجد میں داخل ہوئے تو اس آدمی نے گھوڑے کو کھولا اور اس کی لگام چرا لی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام علیہ السلام دو درھم ہاتھ میں لیے مسجد سے باہر آئے تاکہ اس شخص کو انعام کے طور پر عطا فرمائیں ۔
لیکن انہوں نے دیکھا کہ گھوڑا تو وہیں کھڑا ہے لیکن اس کی لگام چرا لی گئی ہے۔ امام علیہ السلام نے گھوڑے کے لیے پٹہ خریدنے کے لیے اپنے ایک نوکر کو دو درہم دیے، نوکر بازار میں داخل ہوا تو اسے وہی چوری شدہ پٹہ ملا جو چور نے دو درھم میں بیچا تھا، آپ علیہ السلام نے دو درہم دیے اور پٹا لے کر گھر لے آئے۔ جب امام کی نظر اس کی لگام پر پڑی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس شخص نے جلدی کی اور خود کو حلال رزق سے محروم کر دیا جو میری طرف سے اس کے لیے مقرر کیا گیا تھا اور اسے اس نے اپنے لیے حرام بنا دیا ، پھر فرمایا بے شک بے صبری اور جلدی کرنے والا اپنے لیے حلال کو حرام کرتا ہے، اور ایسا کرنے سے اس کے مقررہ حق میں اضافہ نہیں ہوتا۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج3، ص160