روحانی اور معنوی جذبات کو اہمیت دینا
«وَ لَا تُخْلِنِي فِي مَشْهَدِ الْقِيَامَةِ مِنْ بَرْدِ عَفْوِكَ وَ مَغْفِرَتِکَ»؛[1] مجھے میدانِ قیامت میں عفو و درگزر کی ہوا سے مستفید ہوئے نہ چھوڑنا۔ حقیقی اور حق قیامت کی طرح اہل سلوک کی بھی ایک قیامت ہے اور وہ سالک کے نفس کے اندر ہے اللہ کی طرف سلوک کرنے والے سالک کے لیے ایسی حالت پیش انی چاہیے ایک ایسا سال ایک جو اپنا دن رات سیر اور سلوک کی راہ میں گزارتا ہے کیا ایسے سالک کو قرب الہی مغفرت اور اپ کی ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے محسوس نہیں ہونے چاہیے؟ کیا سالک کے دل میں یہ ٹھٹڈک ہے۔؟ کیا غفران الہی اس کے شامل حال ہوئی ہے ؟ اگر ہم غفران کے وعدے کو ائندہ پر ڈال دیں تو ہم نے کوئی ایسا کام نہیں کیا ہے ہم جو اللہ کے حضور میں ہیں اور ہمیشہ ہمیں اس ذات کے ساتھ رہنا چاہیے کیوں غفران خیرات اور برکت الہی کو محسوس نہیں کرتے؟ہماری مثال ایسی ہے جیسے ایک باپ اپنے بچے کا خیال رکھتا ہے اس کی جیب میں پیسے بھی ڈالتا ہے ہر حوالے سے اس کا خیال رکھتا ہے لیکن بچے کو اس چیز کی سمجھ بوجھ نہیں ہے اور ابھی تک اس کی توجہ کسی اور طرف ہے کیا ہمیں عرفان اور سلوک کا شعور نہیں ہونا چاہیے ہمیں اپنے اندر عرفان اور سلوکی شعور کو بیدار نہیں کرنا چاہیے؟
جب معنوی جذبات اور احساسات اتے ہیں تو ہمیں ہرگز یہ نہیں کہنا چاہیے کہ یہ وہم اور خیال ہے۔کیونکہ وہم اور خیال وہ چیز ہو سکتی ہے کہ جو ہمیں زمین بوس کر دے اور اللہ کی راہ سے ہٹا دے اور دور کر دے یا اس وقت کہ جب ہم نورانی ہونے کا احساس کر رہے ہیں جیسے قران مجید کی تلاوت کے وقت نماز پڑھتے وقت دعا کرتے وقت تفکر کرتے وقت یا سلوکی مجلس میں اتے وقت اور معنوی تبدیلیاں رونما ہوتے ہم دیکھتے ہیں وہ اس وقت ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ یہ وہی وہ چیزیں ہیں کیونکہ اگر ہم اس چیز کا یقین کر لیں اور عقیدہ بنا لیں تو گویا ہم نے اللہ کی نعمتوں کا کفران اور ناشکری کی ہے اللہ تعالی نے اپ پر اپنا خاص لطف و کرم کیا ہے سلوکی مجلس میں دوست اور بہترین استاد اپ کو دیا ہے یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے اپ کو تذکر دینے کے لیے بہانے ہیں یہ خود اسی ذات نے ہمیں دیا ہے لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم پھر بھی ناشکری کرتے ہیں۔
کتاب نجوی سالکان (حضرت آیت اللہ محمد صالح کمیلی مدظلہ العالی کی تصنیف) صفحہ 23۔ سے اقتباس