حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی (مدّ ظلّه العالی) کی اطلاع رسانی ویب سائٹ

images (11)

حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی (مدّ ظلّه العالی) کی اطلاع رسانی ویب سائٹ

اہلِ ورع کی خصوصیات

اہلِ ورع کی خصوصیات

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: «وَ الْمُتَوَرِّعُ يَحْتَاجُ إِلَى ثَلَاثَةِ أُصُولٍ» [1] (ترجمہ: متورع (صاحبِ ورع) کو تین اصولوں کی حاجت ہوتی ہے)۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص صاحبِ تقویٰ، اہلِ ورع اور پرہیزگار ہے، اگر وہ یہ جاننا چاہے کہ آیا وہ ورع کے مقام و درجے تک پہنچ چکا ہے یا نہیں، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے اندر ان تین نشانیوں کا جائزہ لے اور دیکھے کہ آیا یہ علامات اس کے وجود میں ظاہر ہو چکی ہیں یا نہیں؟

۱. لغزشوں اور خطاؤں سے درگزر کرنا پہلی نشانی: «الصَّفْحِ عَنْ عَثَرَاتِ الْخَلْقِ أَجْمَعَ»؛ (تمام مخلوق کی لغزشوں سے مکمل چشم پوشی کرنا)۔ اگر کوئی شخص آپ کو اذیت پہنچائے، تو آپ کے اندر اسے معاف کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ “صفح” کے معنی عفو، درگزر اور مخلوق کی خطاؤں سے چشم پوشی کرنے کے ہیں۔ مخلوق میں کوئی تفریق نہیں، چاہے وہ آپ کی اپنی زوجہ ہو یا کوئی اور؛ حتیٰ کہ اس میں غیر مسلم بھی شامل ہیں۔ آپ کو اپنی زوجہ اور اہلِ خانہ کی باتوں پر خواہ مخواہ الجھنا اور گرفت نہیں کرنی چاہیے۔

امام سجاد علیہ السلام کے ‘رسالۃ الحقوق’ کی جانب رجوع کریں اور دیکھیں کہ آپ علیہ السلام زوجہ اور اس کے حقوق کے حوالے سے کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ اس ضمن میں تاکید ی حکم یہ ہے کہ مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی زوجہ کی خطاؤں سے درگزر کرے؛ کیونکہ مرد ہی عورت کے ہاں رشتہ مانگنے گیا تھا اور وہی اسے بیاہ کر اپنے گھر لایا ہے۔ اس نے عورت کو اس کے خاندان سے جدا کیا اور دیارِ غیر (اجنبیت) میں لے آیا؛ «نِسَائُکم أُسَرائُکُم» (تمہاری عورتیں تمہاری اسیر ہیں)۔ [2] عورت اپنے خاندان اور والدین کے ہاں لاڈلی اور عزیز ہوتی ہے، لیکن جب وہ اپنے کنبے سے بچھڑ کر آپ کے گھر آتی ہے—اور آپ اس کے خاندان کا حصہ تو نہیں ہیں، بلکہ آپ تو ایک اجنبی فرد ہیں جس نے ایک پرائی بیٹی سے نکاح کیا اور اسے اپنے گھر لے آیا—تو ذرا سوچیے، آپ کو اس عورت کے معاملے میں کس قدر عفو و درگزر سے کام لینا چاہیے؟ بلاشبہ عورت کو بھی درگزر کرنا چاہیے، لیکن مرد کا درگزر کرنا بدرجہا زیادہ ہونا چاہیے۔

امام سجاد علیہ السلام رسالۃ الحقوق میں فرماتے ہیں: «وَ إِذَا جَهِلَتْ‏ عَفَوْتَ‏ عَنْهَا» (اور اگر وہ نادانی کرے تو تم اس سے درگزر کرو)۔ [3] اگر آپ دیکھیں کہ زوجہ کوئی نادانی کر رہی ہے، تو آپ کو اس کے ساتھ الجھنا نہیں چاہیے۔ کیا عورت آپ کے ساتھ کشتی لڑنے کی حریف ہے کہ آپ اس سے دنگل لڑنا اور اسے پچھاڑنا چاہتے ہیں؟ عورت کو معزز و محترم ہونا چاہیے۔ دورِ جاہلیت میں، جب عورت کو انتہائی ذلیل و خوار سمجھا جاتا تھا، تو اسلام نے آ کر عورت کے مقام کو بلند کیا اور اسے عزت بخشی؛ لہٰذا ہم پر لازم ہے کہ ہم عفو و درگزر کی روش اپنائیں۔

اگر ہماری ازدواجی زندگی میں درگزر نہ ہو، تو نوبت طلاق تک جا پہنچتی ہے۔ آج کل یہ جو طلاق کے واقعات کثرت سے رونما ہو رہے ہیں، ان کی کیا وجہ ہے؟ اس کا سبب یہی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی خطاؤں سے چشم پوشی نہیں کرتے؛ ایک کہتا ہے کہ میں حق پر ہوں اور مجھے ایسا ہونا چاہیے، اور دوسرا کہتا ہے کہ میرا یہ حق ہے، وہ آپس میں تو تو میں میں کرتے ہیں اور معاملہ عدالتوں تک جا پہنچتا ہے۔

۲. لوگوں کے حق میں ظلم و خطا کا ارتکاب نہ کرنا دوسری نشانی: «وَ تَرْكِ خَطِيئَتِهِ فِيهِمْ» (اور لوگوں کے حق میں اپنی خطا ترک کر دینا)؛ اہلِ ورع اس بات کو ہرگز گوارا نہیں کرتے کہ وہ خلقِ خدا کے حق میں ذرہ برابر بھی کسی خطا یا زیادتی کا ارتکاب کریں۔ وہ خود کو تو مشقت میں ڈالنا قبول کر لیتے ہیں، لیکن کسی دوسرے کو زحمت میں مبتلا نہیں کرتے۔ اس حدیثِ مبارکہ میں جو مؤمن کی علامات بیان کرتی ہے، ارشاد ہوتا ہے: «بَدَنُهُ مِنْهُ فِي تَعَب‏ وَ النَّاسُ‏ مِنْهُ‏ فِي رَاحَة» (اس کا اپنا بدن اس کی ذات سے مشقت میں رہتا ہے، مگر لوگ اس کی جانب سے راحت و آسودگی میں ہوتے ہیں)۔ [4] مؤمن وہ ہے جو خود کو تو رنج و زحمت دیتا ہے، مگر عوام الناس اس کے ہاتھوں محفوظ اور پرسکون رہتے ہیں۔ یہاں بھی حضرت (امام صادق) علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ صاحبِ ورع (متورع) کی علامت یہ ہے کہ وہ خلقِ خدا کے ساتھ کوئی زیادتی، ظلم اور ایذا رسانی روا نہیں رکھتا۔

۳. لوگوں کی مدح اور ذم کا یکساں ہونا تیسری نشانی: «وَ اسْتِوَاءِ الْمَدْحِ وَ الذَّمِّ» (اور تعریف و مذمت کا برابر ہونا)؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی جانب سے کی جانے والی ستائش (مدح) اور بدگوئی (ذم) آپ کے لیے یکساں ہو جائے؛ کیونکہ آپ اپنے تمام امور محض رضائے الٰہی کے لیے انجام دیتے ہیں۔ جب آپ کے اعمال خالصتاً خدا کے لیے ہوں، تو اب چاہے کوئی آپ کی تعریف کرے یا مذمت، آپ راہِ حق پر اپنے سفر کو جاری رکھتے ہیں۔ بالخصوص “سیر و سلوک الی اللہ” کے اس روحانی سفر میں، جہاں انسان مراقبہ کرنا چاہتا ہے، خلوت نشینی (عزلت) اختیار کرتا ہے، اور خاموشی (صمت) و گرسنگی (جوع) کو اپناتا ہے—یہ وہ امور ہیں جو عام لوگوں کے معمولات سے مطابقت نہیں رکھتے؛ بہرحال اس راہ میں کچھ ایسی شرائط اور پابندیاں (محدودیتیں) ہیں جو عوام الناس میں رائج نہیں ہیں۔

اس مقام پر عین ممکن ہے کہ آپ بعض لوگوں کی ملامت اور سرزنش کا نشانہ بنیں۔ یہ مذمت اور طعن و تشنیع ہو سکتا ہے آپ کے اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے ہو، یا آپ کے رشتے داروں، گاؤں یا شہر والوں کی طرف سے ہو، یا دینی مدرسے میں آپ کے ہم حجرہ (Roommate) ساتھیوں یا یونیورسٹی کے ہاسٹل کے ساتھیوں کی جانب سے ہو۔ ایک صاحب کہتے تھے: “میں رات کو نمازِ شب (تہجد) کے لیے بیدار ہونا چاہتا ہوں، لیکن میرے بعض ہم حجرہ ساتھی اس پر راضی نہیں ہوتے اور ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔” ایسے میں اس شخص کو اپنے لیے کوئی مناسب راہ تلاش کرنی چاہیے؛ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ چونکہ کچھ لوگ ناراض ہوتے ہیں، لہٰذا انسان نمازِ شب ہی ترک کر دے۔ اس کا ایک حل یہ ہے کہ وہ بتی روشن نہ کرے، یا ہاسٹل ہی میں کوئی نماز گاہ (Prayer Room) ڈھونڈ لے، یا کوئی اور جگہ مقرر کر لے۔ مزید برآں، حضرت آیت اللہ سیستانی (دامت برکاتہ) کا فقہی نظریہ یہ ہے کہ نمازِ شب کو اولِ شب سے لے کر آخرِ شب تک کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے۔ [5]

مآخذ و ماحصل: یہ اقتباس کتاب “عرفانِ اہلِ بیتؑ: شرح «مصباح الشریعة و مفتاح الحقیقة»” کی فصل تینتیس (۳۳): ورع، سے ماخوذ ہے۔ تصنیف: حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی

کلیدی الفاظ: ورع، تقویٰ، پرہیزگاری، اہلِ ورع کی خصوصیات، صفح، عفو، درگزر، معاف کرنا، چشم پوشی، خطائیں، لغزشیں، دوسروں کی خطا سے درگزر، دوسروں کی غلطیوں سے چشم پوشی، میاں بیوی، ہم سفر، اہلِ خانہ، خاندان، شوہر اور بیوی، طلاق، عدالت، عصرِ جاہلیت، رسالۂ حقوق، میاں بیوی کے حقوق، ظلم، ظلم و زیادتی، دوسروں کے حق میں ظلم، رنج و زحمت، مدح و ذم، ستائش، مذمت، بدگوئی، مدح و ذم کا مساوی ہونا۔

حوالہ جات:

[1] مصباح الشریعة.

[2] Darabi, Maqamat al-Salikin, 51. (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: “اپنے اسیروں پر رحم کرو۔” پوچھا گیا: یا رسول اللہ! وہ کون ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: “غلام اور عورتیں۔”)

[3] Shaykh al-Saduq, Al-Amali, 370; Shaykh al-Saduq, Man La Yahduruhu al-Faqih, vol. 2, 621; Muhammad Taqi al-Majlisi, Rawdat al-Muttaqin, vol. 5, 515–516.

[4] Al-Kulayni, Al-Kafi, vol. 2, 47.

[5] Al-Sistani, Minhaj al-Salihin, vol. 1, 169.

فہرست کا خانہ