حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی (مدّ ظلّه العالی) کی اطلاع رسانی ویب سائٹ

images (11)

حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی (مدّ ظلّه العالی) کی اطلاع رسانی ویب سائٹ

شیطان: مخلوقاتِ خداوندی میں سے ایک مخلوق

شیطان: مخلوقاتِ خداوندی میں سے ایک مخلوق

«اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَا یلْقِی الشَّیطَانُ فِی رُوعِی مِنَ التَّمَنِّی وَ التَّظَنِّی وَ الْحَسَدِ ذِكْراً لِعَظَمَتِكَ، وَ تَفَكُّراً فِی قُدْرَتِكَ، وَ تَدْبِیراً عَلَى عَدُوِّكَ…»[1] “اے پروردگار! شیطان میرے باطن (قلب) میں جو خام خیالی، بدگمانی اور حسد کے بیج بوتا ہے، تو انہیں اپنی عظمت کے ذکر، اپنی قدرت میں تفکر اور اپنے دشمن کے خلاف تدبیر میں بدل دے…”

اس سوال کے حوالے سے کہ آیا “نفسِ امّارہ” (برائی پر اکسانے والا نفس) شیطان سے جدا ہے یا یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں، محققین اور اہلِ عرفان کے درمیان بہت سی مختلف اور طویل ابحاث موجود ہیں۔ ہم یہاں ان مباحث کی تفصیل میں جانے کا ارادہ نہیں رکھتے، تاہم یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب شیطان انسان کے نفس میں نفوذ (سرایت) کر جاتا ہے، تو نفسِ انسانی متحرک ہو جاتا ہے[2] اور وہ پیہم برائیوں اور قبیح افعال کا حکم دینے لگتا ہے۔

شیطان کی خلقت ہماری خلقت سے یکسر مختلف ہے۔ شیاطین دراصل جنات ہی کا ایک گروہ (طائفہ) ہیں۔ شیطان کی پیدائش آگ سے ہوئی ہے، جبکہ ہمیں خاک (مٹی) سے تخلیق کیا گیا ہے۔ ہماری طرزِ حیات شیطان اور جنات کی زندگی سے کلی طور پر مختلف ہے۔ وہ لطیف مخلوق ہیں اور باآسانی ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہو سکتے ہیں؛ جبکہ ہم اس طرح کی نقل و حرکت پر قادر نہیں ہیں۔ انہیں “طی الارض” (زمین کو سمیٹ لینے) اور “طی البحر” (سمندروں کو سمیٹ لینے) کی قدرت حاصل ہے، اور وہ پانی اور سمندر کی سطح پر چلنے کی باطنی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کی اپنی تولید و تناسل (زاد و ولد) اور زندگی کا ایک مخصوص نظام ہے جو ہمارے نظامِ حیات سے بنیادی اور اساسی فرق رکھتا ہے۔ جو لوگ جنات کو تسخیر کرنے کے درپے رہتے ہیں اور انہیں اپنے “موکّل” کے طور پر قابو میں لاتے ہیں، وہ درحقیقت خود کو مزید روحانی آلودگی اور غلاظت میں مبتلا کر لیتے ہیں۔ ایسے افراد کے اخلاق و اطوار یکسر بدل جاتے ہیں اور ان کے مزاج میں شدت، تندی اور آتشی خصلتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔

اب شاید آپ کے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ جب شیطان اور انسان دو بالکل مختلف الوجود ہستیاں ہیں، تو پھر شیطان کس طرح ہمارے بدن میں داخل ہو کر ہمارے گوشت پوست میں سرایت کر سکتا ہے اور وہاں اپنی نسل (زاد و ولد) بڑھا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ کہنا ضروری ہے کہ اگرچہ یہ درست ہے کہ ہماری خلقت شیطان کی خلقت سے مختلف ہے، لیکن خداوندِ متعال نے تکوینی (تخلیقی) اعتبار سے شیطان کو ایسی باطنی صلاحیت بخشی ہے کہ وہ بیک وقت اربوں انسانوں کو اپنے زیرِ اثر اور نفوذ میں لا سکتا ہے۔ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ شیطان کو یوں مخاطب کیا گیا ہے: ﴿وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَیهِمْ بِخَیلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِی الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ وَمَا یعِدُهُمُ الشَّیطَانُ إِلَّا غُرُورًا﴾؛ “اور ان میں سے تو جسے بھی اپنی آواز کے ذریعے بہکا سکتا ہے، بہکا لے۔ اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا، اور ان کے مال و اولاد میں ساجھا (شرکت) کر، اور انہیں جھوٹے وعدے دے۔ اور شیطان ان سے جو کچھ بھی وعدہ کرتا ہے وہ سراسر فریب اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔”[3]

البتہ، یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ شیطان کا نفوذ وسوسہ اندازی (شیطانی القاءات) اور باطل کی طرف دعوت کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس کے وسوسوں پر کان نہ دھرے (اعتنا نہ کرے)، تو پھر شیطان کے پاس کوئی مزید طاقت نہیں بچتی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بارگاہِ خداوندی میں رجوع کریں اور عرض کریں: پروردگارا! تو نے ہی شیطان کو یہ قوت عطا کی ہے کہ وہ مکر و فریب کے ذریعے ہم پر تسلط پانے کی کوشش کرے، پس اب ہم تجھ ہی سے التجا کرتے ہیں کہ تو اپنی قدرتِ کاملہ کے صدقے اس کے شر کو ہم سے دفع فرما!

دعائے مکارم الاخلاق میں دو مقامات پر لفظ ‘شیطان’ وارد ہوا ہے:

ایک مقام وہ ہے جہاں امام (علیہ السلام) فرماتے ہیں: «فَإِذَا کانَ عُمُرِی مَرْتَعاً لِلشَّیطَانِ فَاقْبِضْنِی إِلَیک»؛ “خدایا! اگر میری عمر شیطان کی چراگاہ بننے لگے (کہ میں ہمہ وقت شیطان کی وادیوں میں ہی سرگرداں رہوں) اور میں تیرے فیوضاتِ رحمانی سے محروم ہو جاؤں، تو میری جان قبض کر لے!” بھلا اس جان اور عمر کی کیا وقعت اور قدر و قیمت رہ جاتی ہے جو شیطان کے راستے میں صرف ہو جائے؟ دعائے مکارم الاخلاق میں شیطان کے ذکر کا دوسرا مقام اسی زیرِ بحث فقرے سے متعلق ہے، جس کا تعلق شیطانی القاءات (وسوسوں) سے ہے: «اَللَّهُمَّ اجْعَلْ مَا یُلْقِی الشَّیْطَانُ فِی رُوعِی …»۔

شیطان ہر مقام پر، عالمِ بیداری ہو یا حالتِ خواب، ہمارے اطراف میں موجود رہتا ہے۔ انسان کی رؤیا (خوابوں) میں شیاطین کا نفوذ انتہائی نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی شیطانی خواب جو انسان کے محتلم ہونے (احتلام) کا سبب بنتے ہیں اور جن کے نتیجے میں اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے، یہ بھی دراصل شیطانی نفوذ ہی کی ایک قسم ہے۔

البتہ، عالمِ خواب اور بیداری میں شیطان کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے باقاعدہ دعائیں بھی وارد ہوئی ہیں۔ معاویہ بن عمار، امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا: اگر تمہیں حالتِ خواب میں مجنب (ناپاک) ہونے کا اندیشہ ہو، تو سوتے وقت یہ دعا پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الِاحْتِلَامِ وَ مِنْ سُوءِ الْأَحْلَامِ وَ مِنْ أَنْ یَتَلَاعَبَ بِیَ الشَّیْطَانُ فِی الْیَقَظَةِ وَ الْمَنَام‏»؛ “اے پروردگار! میں احتلام اور بُرے خوابوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس بات سے بھی (تیری پناہ کا طالب ہوں) کہ شیطان بیداری یا خواب میں مجھے اپنا بازیچہ (کھلونا) بنا لے۔”[4]

اسی طرح یہ مؤکد سفارش کی گئی ہے کہ کھانا تناول فرماتے وقت «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِیمِ» پڑھا کرو تاکہ شیطان تمہارے کھانے میں شریک نہ ہو سکے۔[5] حتیٰ کہ یہاں تک تاکید کی گئی ہے کہ مباشرت (آمیزش) کے وقت بھی ذکرِ الٰہی بجا لاؤ تاکہ شیطان تمہارے بچے کے نطفے میں شراکت دار نہ بن سکے۔[6]

سجدے سے شیطان کے انحراف (تمرد) اور انسانوں کے ساتھ اس کی کھلی دشمنی کا واقعہ قرآن مجید کے متعدد مقامات پر، بشمول سورۃ الحجر کے، نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اسی بناء پر، انسانوں کے خلاف شیطان کی ازلی عداوت اور کینہ پروری میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ تاہم، ہمیں اس اہم عرفانی نکتے سے بھی غافل نہیں ہونا چاہیے کہ اگر ہم اپنے باطن کی مراقبت (نگہبانی) کریں تو قرآنِ کریم کی صریح تعبیر کے مطابق، شیطان ایک انتہائی حقیر اور پست دشمن ہے: ﴿إِنَّ كَیدَ الشَّیطانِ كانَ ضَعیفاً﴾؛ “بے شک شیطان کی چال (مکر) بہت ہی کمزور ہے۔”[7]

شیطان خواہ کتنی ہی مکاریاں اور سازشیں کیوں نہ رچا لے، اگر ہم راہِ خدا (سیر و سلوک) پر گامزن رہیں اور فقط ذاتِ باری تعالیٰ پر توکل (بھروسہ) کریں، تو شیطان ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا؛ کیونکہ خداوندِ عالم شیطان سے بالا تر اور خود شیطان کا خالق ہے۔ ہم خدائی نصرت کی بدولت اور معنویات، عبادات اور ریاضات (باطنی مشقوں) کے ذریعے، شیطان اور اس کے شیطانی وسوسوں پر غالب آ سکتے ہیں۔ جو سالکین مرشدِ کامل (استاد) کی رہنمائی میں عبادت، مراقبے، ریاضت اور دیگر سلوکی منازل طے کرنے کی زحمت اٹھاتے ہیں، ان کا “اخلاص” مستحکم ہو جاتا ہے اور وہ “مُخلَصین” (خدا کے چنے ہوئے خالص بندوں) کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو جاتے ہیں۔ مخلصین پر شیطان کا کوئی زور نہیں چلتا۔ شیطان صرف کفار، منافقین، فاسقین اور بالآخر ان مؤمنین کو فریب دے سکتا ہے جو ابھی مقامِ اخلاص تک نہیں پہنچ پائے۔

القاءات کی اس دوہری نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ جان لینا چاہیے کہ “مکاشفات” (باطنی مشاہدات) کی بھی دو اقسام ہیں: مکاشفاتِ رحمانی (خدائی) اور مکاشفاتِ شیطانی۔ ہمیں اس باب میں انتہائی چوکنا اور محتاط رہنا چاہیے کہ کہیں ہم شیطانی مکاشفات کو رحمانی مکاشفات سمجھنے کی سنگین فاش غلطی نہ کر بیٹھیں۔ راہِ طریقت میں ایک کامل مرشد (استاد) کا ایک اہم ترین فائدہ یہی ہوتا ہے کہ وہ سالک کے مکاشفات کا جائزہ لے کر انتہائی آسانی کے ساتھ رحمانی اور شیطانی مکاشفات کے درمیان تفریق و تمیز کر دیتا ہے۔

حوالہ جات:

[1] ‘Ali ibn al-Husayn (Imam Sajjad), Al-Sahifa al-Sajjadiyya, “Dua Makarim al-Akhlaq.” [2] البتہ بعض مخصوص صورتوں میں شیطان (بظاہر) اچھائی کا حکم دیتا ہے اور ہوائے نفس برائی پر اکساتی ہے۔ اس کی توجیہ یہ ہے کہ شیطان بسا اوقات جانتا ہے کہ کسی ہوس آلود نگاہ کا ارتکاب دراصل کسی مؤثر ‘نہی عن المنکر’ کا سبب بن جائے گا، لہٰذا وہ اس مخصوص موقع پر اس خاص برائی کا حکم نہیں دیتا، لیکن اس کے باوجود نفس برابر اس بد نگاہی کا تقاضا کرتا رہتا ہے۔ [3] Al-Qur’an, 17:64. [4] Ibn Babawayh (Al-Shaykh al-Saduq), Man La Yahduruhu al-Faqih, vol. 1 (Qum: Daftar-e Intisharat-e Islami), 471. [5] Ibid., vol. 3, 355. [6] عبدالرحمن بن کثیر روایت کرتے ہیں: “میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا، آپؑ نے نطفہ ٹھہرنے کے وقت شیطان کی شراکت کے حوالے سے گفتگو فرمائی اور اس کی سختی اور ہولناکی کا اس طرح ذکر کیا کہ میں خوفزدہ ہو گیا۔ میں نے عرض کی: میری جان آپ پر فدا ہو، اس سے بچنے کا راستہ کیا ہے؟ آپؑ نے فرمایا: جب بھی تم مقاربت کا ارادہ کرو تو یہ پڑھو: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِیمِ (اس اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، وہی ذات کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے)۔” مزید برآں، فقہی ماخذ میں یہ دعا بھی منقول ہے: “خدایا! اگر تو نے اس رات میری نسل سے کوئی جانشین (اولاد) مقدر فرمایا ہے، تو اس میں شیطان کے لیے کوئی حصہ، نصیب اور بہرہ قرار نہ دے، اور اسے ایسا قرار دے جو ایمان و اخلاص کا پیکر ہو اور شیطان اور اس کی پلیدی سے پاک ہو۔ تیری ذات کے لیے ہی بلند ستائش ہے۔” (Sayyid Husayn Borujerdi, Manabi-e Fiqh-e Shia [Translation of Jami’ Ahadith al-Shia], vol. 25, 419). [7] Al-Qur’an, 4:76. (اصل فارسی متن میں متعلقہ حاشیے کی ترتیب کو درست کر دیا گیا ہے)۔

ماخوذ از کتاب: اخلاقِ اہلِ بیتی (شرح دعائے مکارم الاخلاق)، فقرہ سیزدہم: برائیوں کو اچھائیوں میں تبدیل کرنا۔ تالیف: حضرت آیت اللہ کمیلی خراسانی

فہرست کا خانہ