
اپنے نفسانی عیوب کی اصلاح میں مشغول ہونا
«وَ لا تَفْضَحْ احَداً حَيْثُ سَتَرَ اللَّه عَلَيْكَ اعظَمَ مَنْهُ. وَ اشْتَغِلْ بِعَيْب نَفْسِكَ، وَ اصْفَحْ عَمّا لا يُعينُكَ حالُهُ وَ امْرُهُ. وَ احْذَرْ انْ

«وَ لا تَفْضَحْ احَداً حَيْثُ سَتَرَ اللَّه عَلَيْكَ اعظَمَ مَنْهُ. وَ اشْتَغِلْ بِعَيْب نَفْسِكَ، وَ اصْفَحْ عَمّا لا يُعينُكَ حالُهُ وَ امْرُهُ. وَ احْذَرْ انْ

امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَ لَمْ يَخْضَعْ لِلَّهِ وَ لَمْ يَرِقَّ قَلْبُهُ وَ لَا يُنْشِئُ حَزَناً وَ وَجَلًا

توبہ کرنے والوں (تائبین) کے حوالے سے گوناگوں حکایات پائی جاتی ہیں۔ تاریخ میں فضیل بن عیاض یا بہلول اور ان جیسے کئی مشہور تائبین

ہر درد اور مشکل کا چارہ اسی کے ماہرِ فن کے پاس ہوتا ہے، اور ہر مرض کے لیے ایک دوا مقرر ہے۔ گناہ کے

توبہ کی دو قسمیں ہیں: توبہِ نصوح اور توبہِ غیر نصوح۔ توبہِ نصوح ایک سچی، حقیقی اور کھرے دل سے کی جانے والی توبہ

ہر درد اور پریشانی کا حل اس کے ماہر کے پاس ہے اور ہر درد کی دوا موجود ہے۔ گناہ کے علاج اور گناہ کی

سالک کا دنیاوی مشغولیات اور لذت طلبی سے باطنی طور پر کنارہ کشی اختیار کرنا مرحوم علامہ طہرانی فرماتے ہیں:{1} “چونکہ لهویات میں مشغول ہونا

سجدے میں خدا کی مطلق شان کو سمجھنا مرحوم علامہ طہرانی کہتے ہیں{1} “اور عمل سے علم کی وراثت کی مثال کے لیے؛ مثال کے

کثرت نفسانی کا علاج مرحوم علامہ طہرانی فرماتے ہیں: “لیکن یقیناً اس طریقے سے وہ نفسانی خیالات اور اذیتوں اور تکلیفوں سے نجات نہیں پا

مراقبے کا صحیح طریقہ مرحوم علامہ طباطبائی کہتے ہیں:سیر و سلوک کے راستے پر اور ضروریات میں سے ایک ضرورت مراقبہ کا عمل ہے۔ طالب
1438ھ © اس سائٹ کے تمام مادی اور اخلاقی حقوق انور توحید انسٹی ٹیوٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
اس سائٹ کے مواد کی اشاعت اور استعمال، بشمول ماخذ، غیر محدود ہے۔